انٹرمیڈیٹ امتحانات مذاق بن گئے، مسلسل انیسویں روز پرچہ آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
احسن عباسی: انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل اور پرچہ آؤٹ ہونے کی روایت برقرار، امتحانات کے انیسویں روز بھی اُردو کا پرچہ امتحانی وقت کے دوران آؤٹ ہو گیا جس پر والدین، طلبہ اور تعلیمی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پری انجینئرنگ، پری میڈیکل اور ہوم اکنامکس گروپ کے بارہویں جماعت کے اردو کے پرچے کا مکمل حل شدہ سوالنامہ امتحان کے دوران ہی واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرنے لگا۔ صرف سوالنامہ ہی نہیں بلکہ جوابات بھی سوشل میڈیا پر عام دستیاب تھے جس سے بورڈ کی نگرانی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
آئی جی پنجاب کا لاہور قلندر کو جیت کی مبارکباد
انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کی جانب سے نقل روکنے کے دعوے اور اقدامات ایک بار پھر ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نقل مافیا بدستور فعال ہے اور امتحانی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ والدین اور اساتذہ نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔شہریوں نے حکومت اور وزیرِ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہپرچہ آؤٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، امتحانی نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔