دنیا کا نایاب اور مہنگا ترین جاپانی نسل کا جامنی آم ’میازاکی‘ اب پاکستان میں بھی کاشت ہونے لگا ہے۔ کراچی کے علاقے ملیر میمن گوٹھ میں یہ آم 3 لاکھ روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔

’میازاکی‘ آم اپنی گہری جامنی رنگت، غیرمعمولی مٹھاس اور ریشے سے پاک ملائم گودے کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسے سب سے پہلے جاپان کے شہر میازاکی میں اگایا گیا تھا، جہاں یہ عالمی منڈی میں 800 سے 900 امریکی ڈالر فی کلوگرام تک فروخت ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: لاکھوں روپے فی کلو آم، پاکستان میں یہ خاص فصل کہاں کاشت ہورہی ہے؟

اس نایاب پھل کو پاکستان لانے کا سفر 6 سال قبل اس وقت شروع ہوا جب غلام ہاشم نورانی نے جاپان سے اس کا پودا درآمد کیا۔ اب یہ آم کامیابی سے ملیر میں تیار ہو رہا ہے اور مقامی سطح پر بھی 2.

5 سے 3 لاکھ روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

باغبانوں کے مطابق یہ آم برآمد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان میں میازاکی کا واحد درخت ہے، اور وہ بھی ملیر میں موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جاپانی جامنی آم جامنی آم دنیا کا مہنگا ترین جامنی آم ملیر کراچی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جاپانی جامنی ا م دنیا کا مہنگا ترین جامنی آم ملیر کراچی پاکستان میں رہا ہے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا