کراچی بورڈ کے نقل روکنے کے دعوے اور اقدامات ایک بار پھر ناکام،امتحانات کے 19ویں روز بھی اردوکا پرچہ آﺅٹ ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26 مئی 2025)انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کی جانب سے نقل روکنے کے دعوے اور اقدامات ایک بار پھر ناکام ہوگئے،امتحانات کے انیسویں روز بھی اردو کا پرچہ امتحانی وقت کے دوران آوٹ ہو گیا، انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل اور پرچہ آوٹ ہونے کی روایت برقراررہی، نقل مافیا بدستور فعال ہے اور امتحانی نظام کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پری انجینئرنگ، پری میڈیکل اور ہوم اکنامکس گروپ کے بارہویں جماعت کے اردو کے پرچے کا مکمل حل شدہ سوالنامہ امتحان کے دوران ہی واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرنے لگا۔ صرف سوالنامہ ہی نہیں بلکہ جوابات بھی سوشل میڈیا پر عام دستیاب تھے جس سے بورڈ کی نگرانی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔امتحانات میں پرچے آﺅٹ ہونے پر والدین، طلبہ اور تعلیمی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔(جاری ہے)
والدین اور اساتذہ نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔شہریوں نے حکومت اور وزیرِ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ پرچہ آوٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ امتحانی نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔واضح رہے کہ کراچی انٹر بورڈ کے تحت 5 مئی 2025 سے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا آغاز5مئی سے شروع ہوا تھا جو29مئی تک جاری رہیں گے۔امتحانات میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے مختلف گروپ شامل تھے جن میں سائنس، پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، سائنس جنرل، اور ہوم اکنامکس کے ساتھ ساتھ اضافی سبجیکٹس اور امپروومنٹ کے امیدوار بھی شریک تھے۔سالانہ پرچوں کیلئے 182 امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے۔ جن میں سے 122 مراکز صبح کی شفٹ کیلئے اور 60 شام کی شفٹ کیلئے تھے۔قبل ازیںکراچی کے تعلیمی اداروں میں امتحانی پیپرز آوٹ ہونے اور نقل کی روک تھام کیلئے انٹربورڈ نے ایف آئی اے کو خط لکھا تھا۔ خط میں سوشل میڈیا پر پرچے آوٹ کرانے اور نقل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔انٹر بورڈ کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امتحانی پرچوں کے افشا، حل شدہ جوابات کی غیر قانونی فروخت، اور سوشل میڈیا پر منظم نقل کے سلسلے کو روکنے کیلئے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ فوری طور پر مداخلت کرے۔خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مختلف واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر امتحانی مواد لیک کیا جا رہا ہے اور طلبہ کو پیسے کے عوض حل شدہ جوابات فراہم کئے جا رہے تھے جو کہ سائبر جرائم کے زمرے میں آتا تھا۔خط میںمزید کہا گیا تھا کہ دھوکہ دہی کے طریقے اب سائبر جرائم کی شکل اختیار کر چکے ہیں، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ان گروپس کی مکمل تحقیقات کریں اور ان کے منتظمین کا سراغ لگا کر قانونی کارروائی کی جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوشل میڈیا
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔