مودی سرکار کی دروغ گوئی اور ایٹمی جنگ کا جنون
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے جھوٹے دعوئوں اور الزامات کے جواب میں پاکستان نے مبنی بر حقیقت موقف اپنایا ہے۔
بھارت کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ پاکستان کی مبینہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کا ردعمل ضروری تھا ۔ دہشت گردی کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹو ٹ انگ قرار دینے کے معاملے پر بھی مودی سرکار کا موقف شر انگیز ہے۔
بھارت یہ پرچار کر رہا ہے کہ پاکستان غیر قانونی طور پر کشمیر کے کچھ حصے پر قابض ہے۔ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی مبصرین بخوبی جان چکے ہیں کہ بھارت دہشت گردی کے بیانیے کو کشمیریوں کی آواز دبانے اور مظالم چھپانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا یہ نام نہاد’’ردعمل‘‘ دراصل بلا اشتعال فائرنگ، جھوٹے آپریشنز اور میڈیا میں ایسے جنگی تماشوں پر مبنی ہے، جو صرف اندرونی سیاسی مفادات کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بھارت آج تک کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ پاکستان نے بارہا آزادانہ تحقیقات اور بین الاقوامی نگرانی کی پیشکش کی ‘ جسے بھارت نے ہمیشہ مسترد کیا۔پاکستان ہمیشہ سنجیدہ اور جامع مذاکرات کا حامی رہا ہے، جن میں دہشت گردی سمیت تمام اہم مسائل شامل ہوں۔ مگر بھارت’’دہشت گردی‘‘ کو بہانہ بنا کر اصل مسئلہ یعنی کشمیریوں کے حق رائے دہی سے توجہ ہٹاتا ہے۔
اگر بھارت سنجیدہ ہے، تو اسے بلوچستان میں تخریب کاری کی سرپرستی بند کرنی چاہیے، جس کے شواہد عالمی سطح پر بھی سامنے آ چکے ہیں۔ یہ دعوی نہ صرف تاریخ بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہے۔ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، جس کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی قراردادیں( 47، 51، 80، 91 ) صاف طور پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کی بات کرتی ہیں۔ بھارت کا کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ کہنا عالمی عہد و پیمان کی خلاف ورزی ہے۔
اصل میں جموں کشمیر پر بھارت غیر قانونی طور پر قابض ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاں دس لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، متعدد سیاسی رہنما بغیر مقدموں کے قید ہیں، اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں عوام پاکستان کے ساتھ خوش ہیں، امن و امان کی صورتحال بہتر ہے کیونکہ ریاست اور عوام میں اعتماد موجود ہے۔
دوسری جانب الیکشن میں ووٹ بٹورنے کے لیے مودی سرکار جنوبی ایشیا کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نیوکلیئر جنگ کے بارے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ذاتی سیاسی مفادات اور انتخابی کامیابی کے لیے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔
بھارت میں مودی کے دورِ حکومت میں ایٹمی جنگ کے نعرے پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے سننے کو مل رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
کھلی ایٹمی دھمکیاں محض انتخابی جوش نہیں، بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ جنوبی ایشیا کسی بھی وقت ایٹمی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔مودی کے ان بیانات پہ توجہ دی جانی چاہئے ۔
گجرات کے ایک انتخابی جلسے میں مودی نے فخر سے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کے پاس ’’ایٹم بموں کی ماں‘‘ ہے۔ درحقیقت موصوف پاکستان کو شدید ایٹمی ردعمل کی دھمکی دے رہے تھے۔ راجستھان کے انتخابی جلسے میں مودی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا ’’کیا ہم نے ایٹمی ہتھیار دیوالی پر پٹاخے چھوڑنے کے لیے رکھے ہیں‘‘؟ یہ واضح اشارہ تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو حقیقی امکان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مودی کی’’فیصلہ کن ایٹمی ردعمل‘‘ کی دھمکی بھارتی سیاست کو سفارتکاری سے ہٹا کر خطرناک عسکری جنون میں دھکیل رہی ہے۔ بھارت کی طویل عرصے سے قائم’’نو فرسٹ یوز‘‘ پالیسی اب محض ایک کھوکھلا دعویٰ بن چکی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری، توازن اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ دو ارب انسانوں کا خطہ مودی کی سیاسی ضد اور جنون کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔ مودی سرکار کا جنگی ہیجان اجتماعی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عالمی برادری اگر آج خاموش رہی تو کل ایٹمی بادلوں کے نیچے انسانیت کا جنازہ اٹھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مودی سرکار بھارت کا رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔