Daily Ausaf:
2026-07-24@09:56:07 GMT

مودی سرکار کی دروغ گوئی اور ایٹمی جنگ کا جنون

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے جھوٹے دعوئوں اور الزامات کے جواب میں پاکستان نے مبنی بر حقیقت موقف اپنایا ہے۔
بھارت کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ پاکستان کی مبینہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کا ردعمل ضروری تھا ۔ دہشت گردی کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹو ٹ انگ قرار دینے کے معاملے پر بھی مودی سرکار کا موقف شر انگیز ہے۔
بھارت یہ پرچار کر رہا ہے کہ پاکستان غیر قانونی طور پر کشمیر کے کچھ حصے پر قابض ہے۔ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی مبصرین بخوبی جان چکے ہیں کہ بھارت دہشت گردی کے بیانیے کو کشمیریوں کی آواز دبانے اور مظالم چھپانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا یہ نام نہاد’’ردعمل‘‘ دراصل بلا اشتعال فائرنگ، جھوٹے آپریشنز اور میڈیا میں ایسے جنگی تماشوں پر مبنی ہے، جو صرف اندرونی سیاسی مفادات کے لیے کیے جاتے ہیں۔ بھارت آج تک کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ پاکستان نے بارہا آزادانہ تحقیقات اور بین الاقوامی نگرانی کی پیشکش کی ‘ جسے بھارت نے ہمیشہ مسترد کیا۔پاکستان ہمیشہ سنجیدہ اور جامع مذاکرات کا حامی رہا ہے، جن میں دہشت گردی سمیت تمام اہم مسائل شامل ہوں۔ مگر بھارت’’دہشت گردی‘‘ کو بہانہ بنا کر اصل مسئلہ یعنی کشمیریوں کے حق رائے دہی سے توجہ ہٹاتا ہے۔
اگر بھارت سنجیدہ ہے، تو اسے بلوچستان میں تخریب کاری کی سرپرستی بند کرنی چاہیے، جس کے شواہد عالمی سطح پر بھی سامنے آ چکے ہیں۔ یہ دعوی نہ صرف تاریخ بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہے۔ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، جس کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی قراردادیں( 47، 51، 80، 91 ) صاف طور پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کی بات کرتی ہیں۔ بھارت کا کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ کہنا عالمی عہد و پیمان کی خلاف ورزی ہے۔
اصل میں جموں کشمیر پر بھارت غیر قانونی طور پر قابض ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاں دس لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، متعدد سیاسی رہنما بغیر مقدموں کے قید ہیں، اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں عوام پاکستان کے ساتھ خوش ہیں، امن و امان کی صورتحال بہتر ہے کیونکہ ریاست اور عوام میں اعتماد موجود ہے۔
دوسری جانب الیکشن میں ووٹ بٹورنے کے لیے مودی سرکار جنوبی ایشیا کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نیوکلیئر جنگ کے بارے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ذاتی سیاسی مفادات اور انتخابی کامیابی کے لیے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔
بھارت میں مودی کے دورِ حکومت میں ایٹمی جنگ کے نعرے پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے سننے کو مل رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
کھلی ایٹمی دھمکیاں محض انتخابی جوش نہیں، بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ جنوبی ایشیا کسی بھی وقت ایٹمی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔مودی کے ان بیانات پہ توجہ دی جانی چاہئے ۔
گجرات کے ایک انتخابی جلسے میں مودی نے فخر سے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کے پاس ’’ایٹم بموں کی ماں‘‘ ہے۔ درحقیقت موصوف پاکستان کو شدید ایٹمی ردعمل کی دھمکی دے رہے تھے۔ راجستھان کے انتخابی جلسے میں مودی نے طنزیہ انداز میں کہا تھا ’’کیا ہم نے ایٹمی ہتھیار دیوالی پر پٹاخے چھوڑنے کے لیے رکھے ہیں‘‘؟ یہ واضح اشارہ تھا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو حقیقی امکان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مودی کی’’فیصلہ کن ایٹمی ردعمل‘‘ کی دھمکی بھارتی سیاست کو سفارتکاری سے ہٹا کر خطرناک عسکری جنون میں دھکیل رہی ہے۔ بھارت کی طویل عرصے سے قائم’’نو فرسٹ یوز‘‘ پالیسی اب محض ایک کھوکھلا دعویٰ بن چکی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری، توازن اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ دو ارب انسانوں کا خطہ مودی کی سیاسی ضد اور جنون کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے۔ مودی سرکار کا جنگی ہیجان اجتماعی بربادی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عالمی برادری اگر آج خاموش رہی تو کل ایٹمی بادلوں کے نیچے انسانیت کا جنازہ اٹھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مودی سرکار بھارت کا رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا