یوکرین پرتازہ حملوں کے بعد ٹرمپ نے پوٹن کو 'پاگل‘ بتایا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 26 مئی 2025ء) یوکرین پر ماسکو کے اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنےروسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے "خوش نہیں" ہیں۔ ایک غیر معمولی سرزنش میں ٹرمپ نے کہا، "آخر انہیں کیا ہو گیا ہے؟ وہ بہت سے لوگوں کو مار رہے ہیں۔" بعد میں انہوں نے پوٹن کو "بالکل پاگل" قرار دیا۔
اس سے قبل یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ حالیہ روسی حملوں پر واشنگٹن کی 'خاموشی‘ پوٹن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ انہوں نے ماسکو کے خلاف سخت پابندیوں سمیت 'سخت دباؤ‘ بنانے پر بھی زور دیا۔
یوکرین پر سینکڑوں روسی میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ساتھ حملے
پورا یوکرین فتح کرنے کی کوشش روس کے 'زوال' کا باعث بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ کے پوٹن کے خلاف اس طرح کے بیانات ماسکو کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا، "میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ صرف ایک ٹکڑا ہی نہیں بلکہ پورے یوکرین کو چاہتے ہیں، اور شاید یہی درست ثابت ہو رہا ہے۔ تاہم اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو یہ روس کے زوال کا باعث بنے گا!"
ان کا مزید کہنا تھا، "روس کے ولادیمیر پوٹن کے ساتھ میرے ہمیشہ سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔
وہ بالکل پاگل ہو گئے ہیں!"کییف پر روسی میزائل اور ڈرون حملے، 15 افراد زخمی: یوکرینی حکام
ٹرمپ نے کہا کہ پوٹن بغیر کسی وجہ کے یوکرین کے شہروں پر میزائل اور ڈرون برسا کر بہت سے لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔
روس کی جانب سے 367 ڈرونز اور میزائل داغے جانے کے بعد اتوار کی رات کو یوکرین میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
سن 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے ایک ہی رات میں روس کی جانب سے یہ سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلسل تیسری رات یوکرین پر حملے جارییوکرین کے حکام نے پیر کو صبح سویرے اطلاع دی کہ روس نے بڑی تعداد میں جنگی ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل تیسری رات یوکرین پر گولہ باری جاری رکھی۔
یوکرین: جنگ بندی مذاکرات 'فوری' شروع ہوں گے، ٹرمپ
یوکرین کی فضائیہ نے روس کی طرف سے نئے کروز میزائل حملوں سے خبردار بھی کیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ کئی مقامات پر فضائی دفاعی نظام کو تعینات کیا گیا تھا، جس نے متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ترکی میں یوکرین امن مذاکرات سے کسی اہم پیش رفت کا امکان نہیں
فضائیہ کے مطابق روسی ڈرونز نے بحیرہ اسود سے بندرگاہی شہر اوڈیسا پر حملہ کیا۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یوکرین پر کے ساتھ نے کہا کے بعد
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔