خاتون اول کی پولیو سے پاک مستقبل کیلئے اساتذہ، علماء سے کردار ادا کرنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے والدین، اساتذہ، علماء، معززین اور میڈیا سے انسدادِ پولیو مہم میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں پولیو سے بچاؤ کی قومی مہم 26 مئی سے 1 جون تک جاری رہے گی، اس قومی مہم کا حصہ بنیں اور پولیو سے پاک مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو ایک موذی مرض سے محفوظ بنانا ہے۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں آج سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چار لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے تاکہ کوئی بچہ اس حفاظتی عمل سے محروم نہ رہ جائے۔
یاد رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں آج سے انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 7 روزہ انسدادِ پولیو مہم یکم جون تک جاری رہے گی۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران سندھ بھر میں 80 ہزار سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولیو مہم کا پولیو سے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔