Juraat:
2026-06-03@00:43:00 GMT

محکمہ زراعت سندھ کی نااہلی بے نقاب ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

محکمہ زراعت سندھ کی نااہلی بے نقاب ہوگئی

 

گندم کے کاشتکاروں کو 8؍ارب روپے سبسڈی دینے میں ناکامی
فنڈز لیپس ہو گئے ، اعلیٰ حکام نے انکوائری کرنے کی سفارش کردی

محکمہ زراعت سندھ کی نااہلی سامنے آ گئی، گندم کے کاشتکاروں کو 8 ارب روپے سبسڈی دینے میں ناکامی، فنڈز لیپس ہو گئے ، اعلیٰ حکام نے انکوائری کرنے کی سفارش کر دی۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت سندھ کے سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ (سوات) منصوبے میں گندم کے کاشتکاروں کو سبسڈی دینے کے لئے 8؍ارب 77کروڑ روپے جاری کئے گئے ، پروجیکٹ ڈائریکٹر سوات اور دیگر افسران کے کام نہ کرنے کی وجہ سے سندھ میں گندم کے کاشتکار سبسڈی سے محروم ہو گئے ۔ افسران کا کہنا ہے کہ منصوبے میں اربوں روپے کاشتکاروں کو فراہم نہ کرنا محکمہ زراعت سندھ کے افسران کی نالائقی، منصوبہ بندی نہ ہونا اور عملدرآمد نہ کرنا ہے ۔ اعلیٰ افسران نے اکتوبر 2024میں آگاہ کیا جس پر افسران کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کو رقم تقسیم کرنے کا پلان جمع کروایا گیا اور تاخیر سے اجازت ملنے پر فنڈز کاشتکاروں میں تقسیم نہیں ہو سکے ۔ اعلیٰ حکام نے سفارش کی ہے کہ سندھ میں گندم کے کاشتکاروں کو پونے 9ارب فراہم نہ ہونے انکوائری کی جائے اور ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد