سوشل میڈیا اسٹارز کی کمائی پر حکومت کی نظر؛ بجٹ میں یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز پر ٹیکس؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اگر آپ یوٹیوب پر وی لاگ بنا کر یا ٹک ٹاک پر ڈانس کرکے لاکھوں کما رہے ہیں تو ہوشیار ہوجائیں! حکومت اب آپ کی کمائی پر بھی نظر رکھ رہی ہے۔
مالی سال 2025-26 کا بجٹ 10 جون کو پیش ہونے جارہا ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس بار بجٹ میں سوشل میڈیا سے کمائی کرنے والوں کےلیے ایک نیا ’’سرپرائز‘‘ تیار کیا جارہا ہے۔ جی ہاں، بات ہورہی ہے یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور وی لاگرز پر ٹیکس لگانے کی!
ذرائع بتاتے ہیں کہ انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICMAP) نے تجویز دی ہے کہ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 3.
دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں سوشل میڈیا کو صرف تفریح یا اظہارِ رائے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ ایک باقاعدہ ’’کمائی کا میدان‘‘ بن چکا ہے اور حکومت اس میدان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پر تول رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجویز حکومت کے سنجیدہ غور و فکر میں ہے، اور امکان ہے کہ آنے والے بجٹ میں اس پر باقاعدہ اعلان ہوجائے۔ تو اگر آپ بھی کیمرے کے سامنے بیٹھ کر لاکھوں کما رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے اب حساب کتاب کا وقت آگیا ہو!
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ