کراچی؛ ماسیاں گھر سے 98لاکھ مالیت کا 28تولہ سونا چوری کرکے فرار، ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
کراچی:
کے ڈی اے اسکیم ون اے میں گھر کی صفائی کرنے والی ماسیاں 98 لاکھ روپے مالیت کا 28 تالہ سونا چوری کرکے فرار ہوگئیں، ماسیوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئیں۔
تفصیلات کے مطابق شارع فیصل تھانے کے علاقے کے ڈی اے اسکیم ون اے میں گھر کی صفائی کرنے والی ماسیاں گھر کا صفایا کر گئیں، گھر میں کام کرنے والی ماسیاں تقریباً 28 تولہ سونا چوری کرکے فرار ہوئیں، چوری کی واردات میں ملوث مبینہ چور ماسیوں کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔
واقعے کا مقدمہ شارع فیصل تھانے میں درج کر لیا گیا۔ مقدعی مقدمہ کے مطابق تین ماسیوں کو گھر میں صفائی کے لیے رکھا تھا۔ ماسیاں گھر کی صفائی کے دوران الماری میں رکھا سونا چوری کرکے لے گئیں، چوری کیے گئے سونے کی مالیت 98 لاکھ روپے ہے۔
ایس ایچ او شارع فیصل کے مطابق گھر میں سونا چوری کرنے کی واردات 17 مئی کو انجادم دی گئی جبکہ گھر والوں کو گزشتہ روز واردات کا علم ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے فوراً واردات کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی، ویڈیو کی مدد سے خواتین کی گرفتاری کی کوشش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سونا چوری کرکے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔