لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان سپرلیگ سیزن 10 کا فائنل گزشتہ روز لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، سنسنی خیز مقابلے میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 6 وکٹوں سے شکست دی اور تیسری بار پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کیا، اس دوران پی ایس ایل سے باہر ہونے والی ٹیموں کے قومی کھلاڑی کوئٹہ کو سپورٹ کرتے نظر آئے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سلمان علی آغا، صائم ایوب، حسن علی، شاداب خان، نسیم شاہ ہوٹل روم میں پی ایس ایل کا فائنل دیکھ رہے ہیں اور کوئٹہ کو سپورٹ کررہے ہیں، قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی میچ دیکھنے میں مگن ہیں، آخری دو اوورز کا کھیل باقی ہے اس پر سلمان آغا نے پیش گوئی کرتے کہا آخری اوورمیں 10 سکور بچے گا۔

حسن علی کی آواز بھی سنائی دی جو کہہ رہے ہیں کہ عامر ’یارکر‘ کرے گا، جبکہ صائم ایوب اور شاداب خان ایک دوسرے سے میچ کے آخری لمحات پر گفتگو کررہے ہیں، عامر کی باؤلنگ پر حسن علی کی جانب سے تالیاں بھی بجائی گئیں جبکہ پاس بیٹھے نسیم شاہ بھی مسکرائے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سپرسٹار پی ایس ایل کے فائنل سے لطف اندوز ہورہے ہیں، وائرل ویڈیو کو پی سی بی کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ ’therealpcb‘ پر شیئر کیا گیا۔

View this post on Instagram

A post shared by Pakistan Cricket (@therealpcb)


سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے کچھ نے کہا ’جیلس ہورہے ہیں لاہور قلندرز کی جیت سے‘ ایک صارف نے لکھا’ لاہور کی ترقی سے جلتا ہے زمانہ‘
مزیدپڑھیں:بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق بیرسٹر گوہر نے اہم خبر سنا دی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ایس ایل

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا