پی ایس ایل 10 کی فاتح لاہور قلندرز کو ٹائٹل جیتنے پر کتنی انعامی رقم ملی؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 10 کے فائنل میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دے کر تیسری بار ٹائٹل جیت کر کروڑوں روپے کی انعامی رقم حاصل کر لی۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
کوئٹہ نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹ کے نقصان پر 201 رنز بنائے۔
لاہور قلندرز نے 202 رنزکا ہدف آخری اوور کی پانچویں گیند پر حاصل کیا اور تیسری بار ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔
ٹائٹل جیتنے کے ساتھ ہی لاہور قلندرز نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کی انعامی رقم 5 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 14 کروڑ روپے سے زائد) بھی حاصل کر لی۔
رنز اپ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حصے میں 2 لاکھ امریکی ڈالرز (5 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد) آئے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاہور قلندرز
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔