UrduPoint:
2026-06-03@02:04:48 GMT

اسرائیلی بمباری اور غزہ میں مصائب کی شدت میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

اسرائیلی بمباری اور غزہ میں مصائب کی شدت میں اضافہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 26 مئی 2025ء) غزہ پر اسرائیل کی فضائی بمباری اور زمینی حملوں میں روزانہ لوگوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہو رہی ہے جبکہ امدادی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں حالیہ دنوں بھیجی جانے والی امداد کی معمولی مقدار قحط کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔

امدادی امور سے متعلق اسرائیل کی فوج کے ادارے 'کوگیٹ' نے بتایا ہے کہ گزشتہ سوموار سے اب تک 388 ٹرک امدادی سامان لے کر غزہ میں آ چکے ہیں۔

امدادی ادارے تواتر سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ غزہ میں روزانہ 500 سے 600 امدادی ٹرک بھیجنے کی ضرورت ہے جبکہ 11 ہفتے تک امداد بند رہنے سے لوگوں کی ضروریات میں بہت بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گیا ہے۔ Tweet URL

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا ہے کہ 11 ہفتوں سے غزہ میں بموں کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔

(جاری ہے)

اب اگرچہ انسانی امداد کی فراہمی شروع ہو گئی ہے لیکن یہ تکلیف دہ حد تک ناکافی ہے اور معصوم بچوں سمیت بھوکے شہریوں کو خوراک مہیا کرنے کے لیے نیک نیتی سے کی جانے والی کوشش کے بجائے نمائشی اقدام کے مترادف ہے۔سکول پر حملہ

اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے شمالی غزہ میں مبینہ طور پر موجود دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں پر عسکری کارروائیاں تیز کر دی ہیں جن میں 50 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

غزہ شہر کے فہمی الجرجاوی سکول پر فضائی حملے میں وہاں پناہ لیے سیکڑوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے جبکہ ایک گھر پر حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی فوج کے حکم پر لوگوں کی بڑی تعداد آئے روز نقل مکانی پر مجبور ہے جس کے نتیجے میں اس کی پناہ گاہوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے جبکہ خوراک کی قلت نے لوگوں کی تکالیف میں اضافہ کر دیا ہے۔

بہت سے لوگوں نے تباہ شدہ یا زیرتعمیر عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ غزہ بھر میں صحت و صفائی اور نکاسی آب کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور کئی علاقوں میں سیکڑوں لوگوں کو ایک ہی بیت الخلا دستیاب ہے۔ بچوں اور حاملہ خواتین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہے۔

زرعی رقبے کی تباہی

اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سنٹر (یونوسیٹ) اور ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ غزہ میں پانچ فیصد زرعی اراضی ہی قابل کاشت ہے جبکہ جنگ میں دیگر رقبے کو اس قدر نقصان پہنچا ہےکہ فی الوقت وہاں کوئی فصل اگائی نہیں جا سکتی۔

غذائی پیداواری صلاحیت سکڑنے سے قحط کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رفح اور شمالی علاقوں میں صورتحال کہیں زیادہ خراب ہے جہاں تمام زرعی رقبہ ناقابل کاشت ہو گیا ہے۔

'انروا' کے مرکز پر احتجاج

'انروا' نے بتایا ہے کہ مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جرح میں اسرائیلی آباد کار ادارے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس کے ایک مرکز کی عمارت میں داخل ہو گئے جن میں اسرائیل کی پارلیمںٹ (کنیسٹ) کا ایک رکن بھی شامل تھا۔

ماضی میں بھی یہ مرکز حملے کا نشانہ بن چکا ہے جب اس کے احاطے پر لگی باڑ کو آگ لگا دی گئی تھی۔ جنوری کے اواخر میں اس مرکز پر احتجاج کے بعد ادارے نے اپنے عملے کو واپس بلا لیا تھا۔

اقوام متحدہ کی عمارت ہونے کی وجہ سے اس مرکز کو بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی لوگوں کی ہے جبکہ گیا ہے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف