ترجمان حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ کشمیری بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی اور دفعہ 370 اور 35A سمیت اپنے حقوق کی بحالی کے مطالبے پر متحد ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فورسز کی طرف سے جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران بے گناہ لوگوں کو گرفتار اور ہراساں کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں نام نہاد آپریشن سندھور کے بعد اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی انتظامیہ نے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے کیونکہ وہ بھارتی حکومت کے ہندوتوا بیانیے اور نام نہاد آپریشن سندھور کے بارے میں موقف کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ قابض حکام نے کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ حریت ترجمان نے بھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی تعیناتی پر سوال اٹھایا جس کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کشمیری بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی اور دفعہ 370 اور 35A سمیت اپنے حقوق کی بحالی کے مطالبے پر متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزادی کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لئے ہر ظالمانہ ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے لیکن کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہیں۔ ترجمان نے اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر خاموش تماشائی نہ بنیں کیونکہ ان کا فرض ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کو روکیں اور کشمیریوں کو اپنی مرضی کے مطابق بولنے کا حق دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

حریت ترجمان نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو دفعہ370 اور 35اے کی منسوخی اور اس کے بعد بھارت کی ہندوتوا حکومت کی پالیسیوں نے ایک بحران پیدا کر دیا ہے جس سے علاقائی استحکام اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ترجمان نے عالمی عدالت انصاف سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کو رکوانے اور تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حریت کانفرنس کے لئے

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ