بھارت کے جنوبی ساحل پر خطرناک سامان سے لدا کنٹینر بردار جہاز ڈوب گیا، عملے کو بچالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
خطرناک سامان سے لدا لائبیریا کا پرچم بردار بحری جہاز بھارت کے جنوبی ساحلی علاقے کیرالہ کے قریب سمندر میں ڈوب گیا، بھارتی بحریہ نے اتوار کو بتایا کہ اس واقعے میں تمام 24 عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی بحریہ کا کہنا ہے کہ ’ایم ایس سی ایلسا 3‘ نامی 184 میٹر طویل مال بردار جہاز جو بھارتی بندرگاہ وژنجم سے کوچین کی جانب جا رہا تھا، نے ہفتے کے روز حادثے کا شکار ہونے کے بعد ہنگامی مدد کا پیغام جاری کیا۔
بحریہ کے طیاروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا رخ کیا اور دو لائف رافٹس کو دیکھا، جب کہ کنٹینر شپ خطرناک زاویے پر جھکا ہوا تھا، جو کوچین سے تقریباً 38 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں موجود تھا۔
بھارتی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ جہاز پر سوار عملے کے تمام 24 ارکان کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے، جنہیں بھارتی کوسٹ گارڈ (آئی سی جی) اور بحریہ کے گشت کرنے والے جہاز نے ریسکیو کیا، عملے کے افراد کا تعلق جارجیا، روس، یوکرین اور فلپائن سے تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ جہاز 640 کنٹینرز سمیت ڈوبا، جن میں سے 13 کنٹینرز میں خطرناک سامان موجود تھا اور 12 کنٹینر کیلشیم کاربائیڈ سے لدے تھے۔
وزارتِ دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کنٹینرز میں کون سا مواد موجود تھا جنہیں خطرناک قرار دیا گیا ہے، تاہم کیلشیم کاربائیڈ کو کیمیائی صنعت میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں کھاد کی تیاری اور فولاد سازی شامل ہیں۔
بحریہ نے کہا کہ کیرالہ کے ساحل کے ساتھ حساس سمندری ماحولیاتی نظام کو مدِنظر رکھتے ہوئے، کوسٹ گارڈ نے آلودگی سے نمٹنے کی تیاری کا مکمل عمل فعال کر دیا ہے۔
جہاز میں تقریباً 370 ٹن ایندھن اور تیل بھی موجود تھا تاہم کوسٹ گارڈ نے ڈٹیکشن سسٹمز تعینات کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ ابھی تک تیل کے کسی رساؤ (آئل اسپِل) کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موجود تھا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔