مذمت اپنی جگہ دھندہ اپنی جگہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
یورپی ممالک غزہ کی لاش پر ’’ غم زدہ‘‘ بھی ہیں اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ اسرائیل کے ہاتھ میں لہراتے ’’ ساختہِ مغرب‘‘ خنجر کی دھار تیز کرنے کی مشین بھی کاندھے پر اٹھائے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔
جب سے روس نے یوکرین پر فوج کشی کی کوئی مغربی ملک روس سے کاروبار نہیں کر رہا۔نسل کشی کے الزام میں انٹرنیشنل کرائم کورٹ کے وارنٹ نکلنے کے بعد یورپی یونین نے بھی ولادی میر پوتن پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مگر اسرائیل کے بارے میں پابندیوں کا مطالبہ چھوڑ ایسے امکانات کے بارے میں سوالات اٹھانا بھی قابلِ تعزیر ’’ یہود دشمنی ‘‘ کے دائرے میں آتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ ، فرانس اور کینیڈا نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ ہم اسرائیل کے خلاف ’’ سخت‘‘ اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو نے ان تینوں ممالک پر حماس نوازی اور یہود دشمنی کا فتوی داغ دیا۔ مغرب اسرائیل کی گالی کو محبوب کی گالی سمجھ کے کبھی بے مزہ نہیں ہوتا اور فلسطینی بھنوئیں بھی چڑھائیں تو قابلِ مذمت ہے۔
ٹسوے ، مذمت ، افسردگی اپنی جگہ دھندہ اپنی جگہ۔گزشتہ برس اسرائیل نے دنیا سے لگ بھگ ایک سو تریپن ارب ڈالر کی تجارت کی۔اس عرصے میں امریکا نے اسرائیل سے سترہ ارب ڈالر سے زائد کا سامان خریدا۔دوسرے نمبر پر چین اور ہانک کانگ نے مجموعی طور پر چھ ارب ڈالر کی اسرائیلی مصنوعات خریدیں۔ تیسرے نمبر پر آئرلینڈ نے تقریباً تین ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات منگوائیں۔( ویسے آئر لینڈ دو ریاستی حل کے پرجوش حامیوں میں شامل ہے )۔
اسرائیل کی برآمدی مصنوعات میں ہیرے ، ہائی ٹیک الیکٹرونکس بشمول انٹیگریٹڈ سرکٹس ، آپٹیکل اور ٹیلی کمیونکیشن آلات ، کیمیکل مصنوعات، بھاری مشینری بشمول زرعی و طبی آلات و ادویات شامل ہیں۔ (اسرائیل کی ٹیووو فارماسوٹیکل دس بڑی عالمی دوا ساز کمپنیوں میں شامل ہے )۔
اسرائیل ہیروں کی تجارت کا بھی کلیدی بین الاقوامی مرکز ہے (خام ہیرے افریقہ سمیت متعدد خطوں سے درآمد کر کے ان کی تراش خراش اور تجارت کی جاتی ہے )۔
یوں سمجھیے کہ گزشتہ برس اسرائیل نے ایک سو سترہ ممالک کو اپنا مال فروخت کیا۔ان ممالک میں امریکا ، چین اور آئرلینڈ کے بعد علی الترتیب ہالینڈ ، جرمنی ، بھارت ، برطانیہ ، بلجئیم ، فرانس ، اٹلی ، برازیل، اسپین ، جنوبی کوریا اور جاپان بھی شامل ہیں۔
جب کہ اسرائیل نے جن ممالک سے سال انیس سو چوبیس میں تقریباً بانوے ارب ڈالر کی مصنوعات خریدیں اس فہرست میں چین ( انیس ارب ڈالر) ، امریکا ( ساڑھے نو ارب ڈالر ) ، جرمنی ( ساڑھے پانچ ارب ڈالر ) سمیت ایک سو بانوے ممالک شامل ہیں۔ چین نے زیادہ تر الیکٹرونک گاڑیاں ، کمپیوٹر ، موبائل فون اور دھاتیں فروخت کیں۔جب کہ امریکا نے گولہ بارود ، خام ہیرے ، الیکٹرونکس اور کیمیکل مصنوعات فروخت کیں (اربوں ڈالر کے سامان حرب کی امداد و فروخت کی تفصیلات الگ ہیں )۔
جرمنی سے اسرائیل نے گزشتہ برس فوجی سامان کے علاوہ گاڑیاں، الیکٹرونکس، مشینری، ادویاتی مصنوعات خریدیں۔ترکی سالِ گزشتہ اسرائیل کو اشیا فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں ، روس چھٹے ، فرانس ساتویں ، جنوبی کوریا آٹھویں، بھارت نویں ، اسپین دسویں ، برطانیہ گیارہویں ، جاپان بارہویں ، ہالینڈ تیرہویں ، ویتنام چودھویں اور سوئٹزرز لینڈ پندرھویں نمبر پر رہا۔
سال دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے باقی دنیا کو باسٹھ ارب ڈالر مالیت کی جو اشیا اور مصنوعات فروخت کیں ان میں اٹھارہ ارب ڈالر کی الیکٹریکل مشینری ، الیکٹرونکس ، مکینیکل آلات ، دس ارب ڈالر کی کیمیکل اور فارماسوٹیکل مصنوعات ، نو ارب ڈالر کے قیمتی جواہرات و زیورات ، سات ارب ڈالر کے آپٹیکل ، ٹیکنیکل اور طبی آلات اور پانچ ارب ڈالر کی معدنیات شامل ہیں۔
اسلحے کی عالمی تجارت میں دو ہزار بیس تا چوبیس اسرائیل کا حصہ تین اعشاریہ ایک فیصد رہا۔ یعنی وہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں علی اترتیب امریکا ، فرانس ، روس ، چین ، جرمنی ، اٹلی اور برطانیہ کے بعد آٹھویں نمبر پر ہے۔
یہ ترقی یوں حیرت انگیز ہے کہ دو ہزار نو تا تیرہ کے پانچ برس میں اسرائیل اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں سینتالیسویں نمبر پر تھا۔ ( گزشتہ چار برس میں بھارت نے ساختہ اسرائیل چونتیس فیصد، امریکا نے تیرہ فیصد اور فلپینز نے آٹھ فیصد اسلحہ خریدا)۔
جب کہ اسرائیل دو ہزار انیس سے تئیس کے درمیان اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست میں پندھرویں نمبر پر رہا۔امریکا اسرائیل کی انسٹھ فیصد اسلحہ جاتی ضروریات پوری کرتا ہے۔ جرمنی تیس فیصد اسلحہ فراہم کرتا ہے۔اس کے بعد اٹلی ، فرانس ، برطانیہ اور اسپین لگ بھگ ایک فیصد دفاعی آلات و فاضل پرزے فراہم کرتے ہیں ( اسپین نے گزشتہ برس اسلحہ کی فروخت معطل کردی مگر یہ فروخت ویسے بھی آٹے میں نمک کے برابر تھی )۔
لبِ لباب ان گذارشات کا یہ ہے کہ اس دنیا میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف شور محض عوامی سطح پر جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہا ہے۔ جب کہ ریاستیں محض خانہ پری کی حد تک لب ہلا رہی ہیں۔ اسرائیل سے اقتصادی تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی اسرائیل کو گزشتہ ڈھائی برس میں کسی شے کی قلت محسوس ہونے دی گئی۔حتی کہ درآمد و برآمد کا نقشہ بھی غزہ کی نسل کشی سے پہلے کے نقشے سے کہیں بہتر دکھائی دے رہا ہے۔
عام آدمی کا زور بس اتنا چل رہا ہے کہ وہ کسی ایسی فوڈ چین کے شیشے توڑ دے جس کے بارے میں بتایا جائے کہ اس کے ڈانڈے کسی اسرائیلی کمپنی یا سرمایہ کار سے ملتے ہیں۔ اصل بائیکاٹ تو ان ممالک کا ہونا چاہیے جو اسرائیل کو مسلسل اسلحہ اور اقتصادی امداد دے رہے ہیں۔مگر موجودہ عالمی بے حسی کے ماحول میں کوئی بھی ایسا ویسا مطالبہ دیوانے کی بڑ اور پاگل کے خواب جیسا ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب ڈالر کی اسرائیل کی اسرائیل نے گزشتہ برس اپنی جگہ شامل ہیں فروخت کی کے بعد
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں