فلسطین کی عالمی ادارہ صحت میں علامتی کامیابی‘ڈبلیوایچ او میں فلسطین کا جھنڈا لہرائے گا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
جنیوا(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 26 مئی ۔2025 )فلسطینی وفد کو عالمی ادارہ صحت میں علامتی کامیابی حاصل ہوئی جس کے تحت ڈبلیو ایچ او میں پہلی مرتبہ دیگر ممالک کے ساتھ فلسطین کا جھنڈا لہرائے گا فلسطینی مندوب کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر مزید شناخت کی راہیں ہموار ہوں گی.
(جاری ہے)
یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی رکنیت کی گزشتہ سال کامیاب کوشش کے بعد سامنے آئی ہے اور ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ فرانس ممکنہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے لبنان کی مندوب رانا الخوری نے غالباً غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تباہ کن جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ووٹ کا نتیجہ دلیر فلسطینی عوام کے لیے امید کی ایک ہلکی سی کرن ہے، جن کے مصائب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکے ہیں. اسرائیل نے ڈبلیو ایچ او میں اس قرارداد کی مخالفت کی اور ووٹنگ کا مطالبہ کیا اس کا قریبی اتحادی، امریکہ، جو عالمی ادارہ صحت سے علیحدگی کا ارادہ رکھتا ہے ووٹنگ میں شریک نہیں ہوا اگرچہ دنیا کے تقریباً 150 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں تاہم بیشتر بڑی مغربی اور دیگر عالمی طاقتوں جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان شامل ہیں نے ابھی تک اسے تسلیم نہیں کیا ہے. فرانس اور جاپان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ برطانیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جنیوا میں اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ابراہیم خریشی نے کہا کہ یہ ایک علامتی قدم ہے لیکن اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ ہم بین الاقوامی برادری کا حصہ ہیں جو صحت سے متعلق ضروریات میں ہماری مدد کر سکتی ہے مجھے امید ہے کہ ہم جلد ہی ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحدہ کے تمام فورمز کے مکمل رکن بن جائیں گے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔