العربیہ ٹی وی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ او آئی سی کو مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر جاری مظالم رکوانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ایوان صدر کشمیر ہائوس اسلام آباد میں العربیہ ٹی وی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ او آئی سی نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر جاری مظالم رکوانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر پاکستان کی افواج اور عوام نے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے حامی نہیں ہیں لیکن بھارت نے فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ چھیڑی اور اس کے جواب میں ہماری مسلح افواج نے دھول چٹا کر بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے دفعہ 370 اور 35-A منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 9 لاکھ فوج تعینات ہے اور عددی اعتبار سے ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت دلوانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم بند کرانے کے لئے بھارت پر دبائو بڑھانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا