سید سلیم گیلانی کا وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال پر خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز کیساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کے معروف حریت پسند رہنماء و جموں و کشمیر مرکز سادات گیلانیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جنگ سے کشمیری عوام ہرگز خوش نہیں ہیں بلکہ وہ امن چاہتے ہیں، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ جنگ صرف اور صرف تباہی ہے، افسوس کہ میڈیا بھی مثبت کردار ادا نہیں کر رہا، ایسے میں میڈیا کو لگام کسنے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ فائیلیںسید سلیم گیلانی کا تعلق مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع سرینگر سے ہے، وہ سالہا سال سے کشمیر میں مزاحمتی تحریک سے وابستہ ہیں۔ مختلف تبلیغی محاذوں پر سرگرم ہیں۔ سید سلیم گیلانی متحدہ ائمہ فورم کشمیر کے مرکزی ذمہ دار اور جموں و کشمیر مرکز سادات گیلانیہ کے سربراہ ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے سید سلیم گیلانی سے ایک نشست کے دوران خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران مسئلہ کشمیر، کشمیر کی موجودہ صورتحال، بھارت اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو لیکر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سید سلیم گیلانی نے کہا کہ جنگ سے کشمیری عوام ہرگز خوش نہیں ہیں بلکہ وہ امن چاہتے ہیں، جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے بلکہ جنگ صرف اور صرف تباہی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں ایسے لوگوں کی اکثریت ہے، جو امن چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک باہم دوست بن کر رہیں، افسوس کہ میڈیا بھی اپنا مثبت کردار ادا نہیں کر رہا ہے، ایسے میں میڈیا کو لگام کسنے کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر مرکز سادات گیلانیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بالآخر دونوں ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر مستقل امن کا راستہ نکالنا ہوگا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان کشمیریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید سلیم گیلانی چاہتے ہیں کہ جنگ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔