پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے خلاف تاریخی کامیابی کے بعد آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا اور بھارت کو متنبہ کر دیا کہ پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی پر فوری جوابی کارروائی ہمیشہ جامع اور فیصلہ کن ہوگی۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق ملک میں قومی طاقت کے تمام عناصر نے مکمل ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
حکومت نے بھی ہر سال دس مئی کو یوم معرکہ حق منانے کا اعلان کر دیا ہے، بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ میں خود بھارت نے پسپائی اختیارکی اور امریکی صدر سمیت دوسرے ممالک سے درخواست کر کے جنگ بندی کرائی، ورنہ فیصلہ ہو جانا تھا کہ جھوٹوں کا عالمی ریکارڈ بنانے والا بھارت اور اس کے بلند و بانگ جھوٹے دعوؤں کے ماہر حکمران پاکستان مخالف سیاستدان، صحافی، تجزیہ کار اور وی لاگرز کتنے پانی میں تھے اور کس طرح دنیا اور بھارتی عوام کو گمراہ کر رہے تھے مگر پاک فوج نے بھارت کو بے نقاب کردیا اور بھارتی میڈیا کے جھوٹوں کو اب خود بھارتی فوج نے ہی بے نقاب کردیا ہے۔
مئی میں کی جانے والی بھارتی جارحیت کے خلاف قوم نے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک بھر میں پہلے پاک فوج کی حمایت میں ریلیاں نکالیں اور پاک فوج پر مکمل اعتماد کا اظہار کر کے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا مگر پی ٹی آئی اس کی متبادل سنی اتحاد کونسل اور اس کے دیگر حامیوں نے دوری اختیار رکھی۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی کے حامی چھوٹے لوگ پارلیمنٹ میں پہلی بار پہنچ جانے کے بعد بھی قومی دھارے میں آئے اور نہ ہی انھوں نے ملک کے وقارکا خیال رکھا کہ قومی اسمبلی میں ان کی بے سروپا تقاریر سے دنیا میں کیا پیغام جائے گا۔
قومی اسمبلی میں پہلی بار منتخب ہو کر خود کو قومی لیڈر سمجھ لینے والے پی ٹی آئی کے حامی رہنماؤں کو یہ پریشانی ہوئی کہ وزیر اعظم نے بھارت میں ہونے والی پہلگام دہشت گردی کی مذمت کیوں کی۔ پاکستان چار عشروں سے خود دہشت گردی کا شکار ہے تو وہ بھارت میں کیوں دہشت گردی کرائے گا یا اس کی حمایت کرے گا۔ بے نظیر حکومت میں جب سکھ بھارت کے خلاف خالصتان تحریک چلا رہے تھے تو پاکستان ان کی حمایت کر کے سکھوں کے ذریعے بھارت میں دہشت گردی کرا سکتا تھا مگر خود دہشت گردی کا شکار پاکستان نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا بلکہ بھارت کی معاونت کرکے ثابت کر دیا تھا کہ وہ بھارت میں دہشت گردی کا حامی ہے اور نہ ہی ایسی سوچ رکھتا ہے۔
خود صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی بھارت سے مفاہمت کی کوشش کی تھی اور بھارتی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کیا تھا مگر بھارت نہیں مانا تھا اور اس کی طرف سے ایل او سی پر فائرنگ، بلوچستان میں دہشت گردی اور فوجی سازشوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کا ثبوت بھارت کی حمایت یافتہ اور اس کی مالی معاونت سے چلنے والی بی ایل اے، مجید بریگیڈ بلوچستان میں دہشت گردی کرتے رہے جس کا واضح ثبوت حالیہ جعفر ایکسپریس میں کرائی جانے والی بھارتی دہشت گردی ہے۔
2019میں بھارت نے پلوامہ ڈرامے میں ناکامی اور اپنے دو جہاز تباہ کرانے کے بعد اس وقت اپنا پائلٹ رہا کرا لیا تھا جس کی پی ٹی آئی نے حمایت کی تھی۔ بھارت نے 22 اپریل کو پھر پہلگام میں ڈرامہ رچایا اور دہشت گردی کرائی جس کی پاکستان نے فوری مذمت کرکے ثابت کر دیا کہ اس کا اس دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تو پاکستان کی اس درست مذمت کی پی ٹی آئی کے حامی بعض رہنماؤں کو شدید تکلیف ہوئی اور انھوں نے ملکی مفاد کے بجائے اپنے سیاسی مفاد کو ترجیح دے کر پاکستانی اقدام کی مخالفت میں قومی اسمبلی میں تقریر کی جس کی تائید پی ٹی آئی نے کی اور انھیں ایسی تقریر پر روکا اور نہ ہی ان کی مذموم تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
پی ٹی آئی اپنی حکومت کی آئینی برطرفی ریاست مخالف مہم چلا رہی ہے اور اس نے اپنے حامیوں سے دو سال قبل حساس تنصیبات پر حملہ کرا کر 9 مئی کرایا تھا مگر دو سال بعد آرمی چیف نے دس مئی کو آپریشن بنیان مرصوص کرا کر بھارت کو جو شکست دی اس سے پی ٹی آئی کا جھوٹا بیانیہ زمیں بوس ہو گیا اور قوم فوج کی حمایت میں کسی بھی سیاست کو چھوڑ کر سڑکوں پر آگئی اور ملک بھر میں فوج تاریخی کامیابی سے سرخرو ہوئی۔ ملک بھر میں جشن منایا جانے لگا تو اس موقع کو بھی پی ٹی آئی نے اپنی سیاست چمکانے کا موقعہ جانا ۔
پی ٹی آئی اپنے بانی کی رہائی کے لیے لانگ مارچ، دھرنوں کی سیاسی پوزیشن میں نہیں رہی تھی اور چار کروڑ عوام کی حمایت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کہیں بھی سڑکوں پر 30 ہزار حامی نہ نکال سکتے تھے، انھوں نے دس مئی کے بعد اپنے دکھاؤے کے لیے فوج کی حمایت میں ریلیاں نکالنا شروع کیں اور ہر جگہ قومی پرچموں سے زیادہ اپنے پرچم لہرائے اور اپنے سزا یافتہ بانی کی تصاویر کے بینرز بنوائے اور اپنے سزا بھگتنے والے بانی کی رہائی کے نعرے لگوائے۔
پی ٹی آئی نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فوج کی حمایت میں دکھاؤے کی ریلیوں سے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ ملک کی کسی اور سیاسی پارٹی نے ایسا کیا نہ ہی دفاع وطن کونسل نے کراچی میں جو بنیان مرصوص کانفرنس منعقد کی اس بڑے اجتماع میں صرف قومی پرچم نظر آئے۔ جس میں مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمارا سر دنیا میں فخر سے بلند کر دیا ہے۔ یہ موقعہ فوج سے اظہار یکجہتی کا تھا جسے پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر ہی لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوج کی حمایت میں پی ٹی آئی نے بھارت میں اور بھارت پاک فوج اور اس کر دیا فوج نے کے بعد
پڑھیں:
عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم نے اپنے نئے میوزک البم ’صبح آئے نہ‘ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
گلوکار عاطف اسلم کے مطابق آٹھ گانوں پر مشتمل اس البم میں ’صبح آئے نہ‘، ’سفر میں ہوں‘، ’عشق‘، ’لیٹس ہیو سو فن‘، ’سن سجنا‘، ’ہوں عشق میں‘، ’چار یار‘ اور ’سچے وعدے‘ شامل ہیں اور اس البم کو 31 جولائی کو دنیا بھر کے مختلف میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ریلیز کیا جائے گا۔
اپنے نئے البم کے حوالے سے عاطف اسلم کا کہنا تھا کہ ’صبح آئے نہ‘ ان کے ذاتی سفر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انہوں نے اندرونی کشمکش سے نکل کر اپنی اصل شخصیت کو دریافت کیا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ البم میری اس جدوجہد کی نمائندگی کرتا ہے جس میں میں نے اندرونی انتشار سے نکل کر اپنے حقیقی وجود کو پایا۔ میں بے حد پرجوش ہوں کہ آخرکار اسے اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔‘‘
View this post on Instagram View this post on Instagram
عاطف اسلم کے گانوں کو 8 ارب بار سنا جا چکا ہے:
دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے شاندار موسیقی کے سفر کے دوران عاطف اسلم جنوبی ایشیا کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
تازہ اسپاٹیفائی اعداد و شمار کے مطابق، ان کے گانوں کو اب تک تقریباً 8 ارب بار سنا جا چکا ہے، جبکہ ہر ماہ 3 کروڑ سے زائد افراد 184 ممالک میں ان کی موسیقی سنتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران عاطف اسلم کی 96 فیصد اسٹریمنگز پاکستان سے باہر ہوئیں، جو مشرقِ وسطیٰ، شمالی امریکا، یورپ اور ایشیا پیسیفک سمیت مختلف خطوں میں ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، عاطف اسلم کی موسیقی نوجوان نسل میں بھی بے حد مقبول ہے، جہاں جنریشن زیڈ ان کے 85 فیصد سامعین پر مشتمل ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد نئے اور پرانے سامعین نے ان کے گانے سنے، جبکہ ان کے گانوں کو دنیا بھر میں 3 کروڑ 75 لاکھ سے زائد ذاتی پلے لسٹس میں شامل کیا گیا۔