بھارت: ’گاؤ رکھشک‘ ہندوؤں کا مسلمانوں پر تشدد، حملے کی ویڈیوز میں پولیس خاموش تماشائی بنی رہی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا جب کہ علی گڑھ، اتر پردیش میں خود کو "گاؤ رکھشک" کہنے والے ہندو انتہا پسندوں نے 4 مسلمان شہریوں کو شدید زخمی کردیا۔
رپورٹ کے مطابق علی گڑھ، اتر پردیش میں خود کو "گاؤ رکھشک" کہنے والے ہندو انتہا پسندوں نے 4 مسلمان شہریوں کو شدید زخمی کردیا جب کہ ان کا جرم مودی کے بھارت میں محض گوشت کی منتقلی تھا۔
حملہ آوروں نے متاثرین کو گاڑی سے زبردستی نکالا اور انہیں اینٹوں، ڈنڈوں، سریوں سے مارا پیٹا، شدت پسندوں نے نہ صرف گاڑی کو نذر آتش کیا بلکہ موبائل فون اور نقدی بھی لوٹ لی۔
متاثرین نے کہا کہ بھینس کا گوشت لے جانا بھارتی قانون کی خلاف ورزی نہیں، چاروں متاثرین میں سے تین کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
حملے کی ویڈیوز سے ثابت ہوا کہ پولیس موقع پر موجود ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی رہی، یہ واقعہ مودی سرکار اور بی جے پی کی ہندووتا سوچ کی عکاسی کرتا ہے
بھارت میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان انتہائی غیر محفوظ ہو چکے ہیں، علی گڑھ میں پیش آنے والا یہ لرزہ خیز واقعہ مودی سرکار کی مذہبی منافرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
فائل فوٹوکوہاٹ میں پنڈی پل ٹول پلازا کے قریب گاڑی پر فائرنگ میں کسٹم اہلکار جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق شہید کسٹم اہلکار کی شناخت یاسر شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ شہید اہلکار کی لاش اور زخمی کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ڈی پی او کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔