بھارت کے ساتھ تمام مسائل پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 مئی 2025ء) پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز دو روزہ دورہ ایران کا آغاز کیا، جہاں تہران میں انہوں نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور پھر صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران خطے میں امن کے لیے کام کرنے کا عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز نے کہا،"ہماری شاندار مسلح افواج کے پر شجاعت اقدامات اور پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت" کی وجہ سے پاکستان بھارت کے ساتھ حالیہ بحران سے باہر آیا۔
انہوں نے مزید کہا،"ہم امن چاہتے ہیں اور میز پر بات چیت کے ذریعے خطے میں امن کے لیے کام کریں گے اور تنازعہ کشمیر سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کریں گے۔
(جاری ہے)
ان قراردادوں کو بھارتی پارلیمان نے اس وقت بھی تسلیم کیا تھا، جب نہرو بھارت کے وزیر اعظم تھے۔"
بھارت پاک کشیدگی کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ پاکستان میں
انہوں نے کہا کہ "اگر بھارت سنجیدہ ہے تو ہم پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف تصفیہ طلب مسائل پر امن کے لیے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
" تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اگر بھارت جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے، تو پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرے گا۔وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعے اور اس کے "تسلط پسندانہ عزائم" کے بارے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو آگاہ کیا۔ انہوں نے "بھارتی جارحیت" کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
’ایران آٹھ پاکستانیوں کے قتل کی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے‘
پاکستان اور ایران کا علاقائی امن کے لیے کام کرنے کا عزمپاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ ان کی ملاقات نتیجہ خیز اور مفید رہی، جس میں باہمی دلچسپی اور تعاون کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کو اپنا "دوسرا گھر" قرار دیا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران تہران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا، "ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔"دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔
ایران کے اعلی فوجی جنرل کی پاکستان کے فوجی سربراہ سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ اس بات پر مکمل اتفاق ہوا ہے کہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانا چاہیے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ثقافتی اور تاریخی تعلقات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ان تعلقات کو زندگی کے مختلف شعبوں میں انتہائی نتیجہ خیز تعاون میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز نے ایرانی صدر کو بتایا،"میں پاکستانی عوام کے لیے آپ کی تشویش اور برادرانہ جذبات کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتا ہوں اور آپ کی پرجوش خواہش رہی ہے کہ یہ بحران مزید بڑھنے کے بجائے تھم جائے۔
"پاکستان ایران سرحد پر حملہ، متعدد ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک
ایرانی صدر کا مذاکرات پر زورایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔
صدر پیزشکیان نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنی سرحدوں کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں سے محفوظ بنانے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں امن و استحکام ایران کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ضروری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، اہم امور پر بات چیت
ان کا کہنا تھا،"ہم سمجھتے ہیں کہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پڑوسی ممالک کو بات چیت کرنی چاہیے اور بین الاقوامی شراکت داروں سمیت ایک دوسرے کے ساتھ مثبت مشاورت کرنی چاہیے۔
"پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ اس دورے میں شامل ہیں۔
ص ز/ ج ا (نیوز ایجنسیاں)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور شہباز شریف ایرانی صدر امن کے لیے کے درمیان اور ایران بھارت کے نے ایران ایران کے کے ساتھ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :