Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:56:24 GMT

وزیراعظم کی ترکیہ اور ایران کی قیادت سے مثبت ملاقاتیں

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

وزیراعظم کی ترکیہ اور ایران کی قیادت سے مثبت ملاقاتیں

اسلام آباد(طارق محمودسمیر) وزیراعظم محمد شہباز شریف حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پرشکریہ ادا کرنے کیلئے دوست ممالک کے
دورے پر ہیں ، پہلے مرحلیانہوں نے تر کیہ کا2روزہ دورہ کیا جہاں صدررجب طیب اردوان سے وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں پاک ترکیہ سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق اور علاقائی امن کے لئے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت سے کشیدگی کے دوران حمایت اور مسئلہ کشمیر پر ساتھ دینے پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا،بلاشبہ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والے پیشرفت کے تناظرمیں وزیراعظم کادورہ ترکیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر  ترکیہ نیبھارتی جارحیت پر جس اندازمیں پاکستان کاساتھ دیااوراس کے موقف کی تائیدکی اس پر پاکستانیوں کے دلوں میں اس کی قدرومنزلت مزیدبڑھ گئی ہے ،ترکیہ کاشمارپاکستان کے ان بہترین اورقابل اعتماد دوست ملکوں میں ہوتا ہے جس نے ہرمشکل وقت میں اس کاساتھ دیا، زلزلہ ہویاسیلاب ،ہرناگہانی آفت میں ترکیہ مددکے لئے سب سے پہلے پہنچااورہمیشہ اسی جذبے کامظاہرہ پاکستان کی طرف سے بھی کیاگیا، پاکستان اور ترکیہ نے ہرعلاقائی اورعالمی فورمزپرہمیشہ ایک دوسرے کاساتھ دیا،ترکیہ نے جہاں مسئلہ کشمیرپر ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائیدکی وہیں قبرص کے معاملے پر پاکستان ہمیشہ ترکیہ کے ساتھ کھڑہوا،دورے کے دوسرے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچے  تہران میں صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکین کے ساتھ حالیہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نے علاقائی امن کے لیے بھارت کے ساتھ تمام تنازعات بشمول جموں و کشمیر اور پانی کے مسائل حل کرنے کی اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ،حالیہ دنوں میں ایران نے پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں جو متوازن اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، وہ قابلِ ستائش اور قابلِ توجہ ہے۔ایران، جو تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے، ہمیشہ جنوبی ایشیائی سیاست کو سنجیدگی سے دیکھتا رہا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جو سفارتی کوششیں کی گئیں، وہ نہ صرف علاقائی امن کے لیے نیک شگون ہیں بلکہ ایران کے بدلتے ہوئے علاقائی وعن کی عکاسی بھی کرتی ہیں، تہران نے نہایت محتاط مگر واضح پیغام دیا کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں اور جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ایران کا یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات رکھتا ہے۔ ایک جانب وہ بھارت کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے منصوبے چلا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ساتھ مذہبی و ثقافتی قربت اور سرحدی روابط رکھتا ہے۔ ایسے میں ایران کا غیر جانب دارانہ اور امن پر مبنی مؤقف نہ صرف پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر یا دیگر تنازعات کو طاقت کے بجائے بات چیت سے سلجھایا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ ایران کی موجودگی ایک نئی جغرافیائی حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہے ۘ کہ اب مغرب نہیں بلکہ خطے کے  ممالک خود امن کے داعی بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کا یہ قدم چین کی ثالثی کوششوں کے بعد ایک اور مثال ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں کے تنازعات کو باہر سے نہیں بلکہ اندرونی اور علاقائی طاقتوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی رہائی کی تحریک کے معاملے پر پی ٹی آئی تذب کاشکارہے،کوئی عمران خان کی رہائی کے لئے بیک ڈوررابطوں اورکوئی احتجاج کی بات کررہاہے،جنیداکبرکاکہناہیکہ عمران خان کی رہائی کے لئے صوابی اورمارگلہ میں ٹینٹ ویلج قائم کریں گے ،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکی قیادت پر اعتمادہے وہ جو فیصلہ کریں گے اس پرعمل ہوگاتاہم پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹرگوہرنے کہاہے کہ کارکن جذباتی نہ ہوں ،بانی کی رہائی کے لئے کوششیں جاری ہیں،معاملات عدالتوںمیں ہیں ،190ملین پاونڈکیس جلداسلام آباد ہائی کورٹ میں لگ جائے گا،بظاہرپی ٹی آئی ایک بیانیہ بنانے میں ناکام ہے خاص طور پر کے پی میں پارٹی کو دباؤکاسامناہے جہاں خیبرپختونخواحکومت کی کرپشن کی باتیں زبان زدعام ہیں ،بہترہے کہ پارٹی قیادت مل بیٹھے اور پہلے یہ طے کیاجائے کہ آیاعمران خان کی رہائی کے لئے عدالتوں پر انحصارکیاجائے یاپھر تحریک چلائی جائے گی جس کے بعدمتفقہ موقف اختیارکیاجائے تاکہ کارکنوں میں گومگوصورتحال ختم ہو،علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سات اہم رہنماؤں کی طرف سے پارٹی چھوڑ کرمسلم لیگ ن میں شمولیت کے لئے اندون خانہ رابطے جاری ہیں ،ان رہنماوں کی جلدمسلم لیگ ن کے صدرمیاں نوازشریف سے ملاقات کرائی جائے گی جس کے بعدان کی طرف سے پریس کانفرنس متوقع ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی رہائی کے لئے خان کی رہائی پاکستان کے بھارت کے کے ساتھ ٹی ا ئی امن کے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا