Daily Mumtaz:
2026-06-03@00:26:06 GMT

وزیراعظم کی ترکیہ اور ایران کی قیادت سے مثبت ملاقاتیں

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

وزیراعظم کی ترکیہ اور ایران کی قیادت سے مثبت ملاقاتیں

اسلام آباد(طارق محمودسمیر) وزیراعظم محمد شہباز شریف حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پرشکریہ ادا کرنے کیلئے دوست ممالک کے
دورے پر ہیں ، پہلے مرحلیانہوں نے تر کیہ کا2روزہ دورہ کیا جہاں صدررجب طیب اردوان سے وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں پاک ترکیہ سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق اور علاقائی امن کے لئے مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت سے کشیدگی کے دوران حمایت اور مسئلہ کشمیر پر ساتھ دینے پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا،بلاشبہ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والے پیشرفت کے تناظرمیں وزیراعظم کادورہ ترکیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر  ترکیہ نیبھارتی جارحیت پر جس اندازمیں پاکستان کاساتھ دیااوراس کے موقف کی تائیدکی اس پر پاکستانیوں کے دلوں میں اس کی قدرومنزلت مزیدبڑھ گئی ہے ،ترکیہ کاشمارپاکستان کے ان بہترین اورقابل اعتماد دوست ملکوں میں ہوتا ہے جس نے ہرمشکل وقت میں اس کاساتھ دیا، زلزلہ ہویاسیلاب ،ہرناگہانی آفت میں ترکیہ مددکے لئے سب سے پہلے پہنچااورہمیشہ اسی جذبے کامظاہرہ پاکستان کی طرف سے بھی کیاگیا، پاکستان اور ترکیہ نے ہرعلاقائی اورعالمی فورمزپرہمیشہ ایک دوسرے کاساتھ دیا،ترکیہ نے جہاں مسئلہ کشمیرپر ہمیشہ پاکستان کے موقف کی تائیدکی وہیں قبرص کے معاملے پر پاکستان ہمیشہ ترکیہ کے ساتھ کھڑہوا،دورے کے دوسرے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچے  تہران میں صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکین کے ساتھ حالیہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نے علاقائی امن کے لیے بھارت کے ساتھ تمام تنازعات بشمول جموں و کشمیر اور پانی کے مسائل حل کرنے کی اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ،حالیہ دنوں میں ایران نے پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں جو متوازن اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، وہ قابلِ ستائش اور قابلِ توجہ ہے۔ایران، جو تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے، ہمیشہ جنوبی ایشیائی سیاست کو سنجیدگی سے دیکھتا رہا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جو سفارتی کوششیں کی گئیں، وہ نہ صرف علاقائی امن کے لیے نیک شگون ہیں بلکہ ایران کے بدلتے ہوئے علاقائی وعن کی عکاسی بھی کرتی ہیں، تہران نے نہایت محتاط مگر واضح پیغام دیا کہ مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں اور جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ایران کا یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات رکھتا ہے۔ ایک جانب وہ بھارت کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے منصوبے چلا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ساتھ مذہبی و ثقافتی قربت اور سرحدی روابط رکھتا ہے۔ ایسے میں ایران کا غیر جانب دارانہ اور امن پر مبنی مؤقف نہ صرف پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر یا دیگر تنازعات کو طاقت کے بجائے بات چیت سے سلجھایا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ ایران کی موجودگی ایک نئی جغرافیائی حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہے ۘ کہ اب مغرب نہیں بلکہ خطے کے  ممالک خود امن کے داعی بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کا یہ قدم چین کی ثالثی کوششوں کے بعد ایک اور مثال ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں کے تنازعات کو باہر سے نہیں بلکہ اندرونی اور علاقائی طاقتوں کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی رہائی کی تحریک کے معاملے پر پی ٹی آئی تذب کاشکارہے،کوئی عمران خان کی رہائی کے لئے بیک ڈوررابطوں اورکوئی احتجاج کی بات کررہاہے،جنیداکبرکاکہناہیکہ عمران خان کی رہائی کے لئے صوابی اورمارگلہ میں ٹینٹ ویلج قائم کریں گے ،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکی قیادت پر اعتمادہے وہ جو فیصلہ کریں گے اس پرعمل ہوگاتاہم پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹرگوہرنے کہاہے کہ کارکن جذباتی نہ ہوں ،بانی کی رہائی کے لئے کوششیں جاری ہیں،معاملات عدالتوںمیں ہیں ،190ملین پاونڈکیس جلداسلام آباد ہائی کورٹ میں لگ جائے گا،بظاہرپی ٹی آئی ایک بیانیہ بنانے میں ناکام ہے خاص طور پر کے پی میں پارٹی کو دباؤکاسامناہے جہاں خیبرپختونخواحکومت کی کرپشن کی باتیں زبان زدعام ہیں ،بہترہے کہ پارٹی قیادت مل بیٹھے اور پہلے یہ طے کیاجائے کہ آیاعمران خان کی رہائی کے لئے عدالتوں پر انحصارکیاجائے یاپھر تحریک چلائی جائے گی جس کے بعدمتفقہ موقف اختیارکیاجائے تاکہ کارکنوں میں گومگوصورتحال ختم ہو،علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سات اہم رہنماؤں کی طرف سے پارٹی چھوڑ کرمسلم لیگ ن میں شمولیت کے لئے اندون خانہ رابطے جاری ہیں ،ان رہنماوں کی جلدمسلم لیگ ن کے صدرمیاں نوازشریف سے ملاقات کرائی جائے گی جس کے بعدان کی طرف سے پریس کانفرنس متوقع ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی رہائی کے لئے خان کی رہائی پاکستان کے بھارت کے کے ساتھ ٹی ا ئی امن کے کے لیے

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ