---فائل فوٹو 

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ 8 فروری کا الیکشن غداروں نے مل کر چوری کروایا۔ 26ویں آئینی ترمیم کے ہم مخالف تھے اور اسے ردی کی ٹوکری میں پھینکیں گے۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عید سے قبل 5 تاریخ کو سماعت کےلیے کیس مقرر کیا گیا ہے، سماعت کے موقع پر بتائیں گے کہ کیسے پاکستانی قانون سے کھیلا جا رہا ہے، ایسا کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا، ہماری تحریک جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ ہم تھے ہیں اور رہیں گے، بانیٔ پی ٹی آئی ہماری اور ہمارے قوم کے بچوں کے لیے جنگ لڑ رہا ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کے اوپر کوئی کیس نہیں انہیں بے گناہ کو جیل میں ڈالا ہوا ہے، ان کو شرم آنی چاہیے جو مینڈیٹ چوری کر کے بیٹھے ہیں۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ ہمارے صوبے میں بانیٔ پی ٹی آئی کی حکومت ہے جو ان کی ہدایت کے مطابق ہے۔

کے پی حکومت کو عوام سے براہ راست ٹکراؤ کی حکمت عملی مہنگی پڑے گی: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کے پی حکومت کو عوام سے براہ راست ٹکراؤ کی حکمت عملی منہگی پڑے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ایک صوبے کو تسلیم کیا ہے، انہوں نے اپنے ٹارگٹ حاصل کیے ہیں، وفاقی حکومت نے کیوں نہیں کچھ کیا سارے فارم 47 والے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 200 ملین کا سر پلس ہے، سندھ میں کیا ہو رہا ہے سر پلس کیوں نہیں آیا، ریڈزون کے ایس او پیز بنے ہوئے ہیں ہم سیاسی پارٹی ہیں، ہم خود کہتے ہیں احتجاج ہونے چاہئیں ہم نے کسی کو نہیں روکا، جے یو آئی نے پانچ جلسے کیے ہم نے سیکیورٹی دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی علی امین

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن