اسلام آباد سے آسٹریلوی ہائی کمیشن کے ایک وفد نے اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا ہے۔ وفد نے ہوائی اڈے کی سہولیات، ایمرجنسی سروسز اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا۔

وفد میں اسکاٹ گورڈن میکڈونلڈ گولڈن (سیکنڈ سیکریٹری و قونصل)، مسٹر ولی محمد (مینیجر قونصلر و پاسپورٹس) اور مسٹر ناصر عباس (اسسٹنٹ سیکیورٹی مینیجر) شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں وزیراعظم کا اسکردو سمیت تمام ایئرپورٹس پر بہترین سہولیات مہیا کرنے کا حکم

ایئرپورٹ مینیجر نے افسران کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا جن میں آفیسر کمانڈنگ (اے ایس ایف)، انچارج میڈیکل اور چیف فائر اینڈ ریسکیو آفیسر شامل تھے۔

اس دورے کا مقصد سیاحوں، خصوصاً آسٹریلوی شہریوں کے لیے دستیاب سہولیات اور حفاظتی انتظامات سے واقفیت حاصل کرنا تھا۔

وفد نے آمد و روانگی لاؤنجز، مسافروں کے ہینڈلنگ کے طریقہ کار، اور ایمرجنسی و سیکیورٹی پروٹوکولز کا جائزہ لیا۔ وفد نے ہوائی اڈے کے انتظامات، صفائی اور خدمات کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں پی آئی اے کا لاہور سے اسکردو اور گلگت کے لیے دوطرفہ پروازیں شروع کرنے کا اعلان

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے زیرانتظام اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ شمالی پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے اور بین الاقوامی و ملکی سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آسٹریلوی ہائی کمیشن اسکردو ایئرپورٹ دورہ وفد وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا سٹریلوی ہائی کمیشن اسکردو ایئرپورٹ وفد وی نیوز کے لیے وفد نے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس