رسالت مآب ﷺ ایک مدبر قائد اور جنگی امور کے ماہر بھی تھے، مقررین
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
فیڈرل اردو یونیورسٹی میں نبی اکرمﷺ کی جنگی حکمت عملی اور عصر حاضر کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں مقررین نے کہا رسالت مآبﷺایک مدبر قائد اور جنگی امور کے ماہر بھی تھے اور حالیہ دنوں میں بھارت نے پاکستان پر حملہ جبکہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے ساتھ ایسا حملہ کیا کہ آج بھارت اپنی جگ ہنسائی پر نادم ہے، یہ دراصل سیرت رسولﷺ سے کشیدہ سبق ہے۔
فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں "نبی اکرم کی جنگی حکمت عملی اور عصر حاضر" کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا جہاں مہمان خصوصی صدر شعبہ علوم اسلامیہ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ڈاکٹر حافظ وقاص خان نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ جنگ، دفاع، امن، مصلحت، حکمت اور انٹیلیجنس سب کچھ نبی پاکﷺکی حیات طیبہ سے میسر آتا ہے، آج دنیا رسول پاکﷺکی جنگی حکمت عملی سے روشناس ہو جائے تو اس میں انسانیت کی بقا ہے۔
حافظ وقاص خان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تاہم پاکستان نے چند دن تحمل کا مظاہرہ کیا اور پھر منصوبہ ترتیب دے کر ایسا حملہ کیا کہ آج بھارت اپنی جگ ہنسائی پر نادم ہے، یہ دراصل سیرت رسولﷺ سے کشیدہ سبق ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسالت مآب صلی علیہ و آلہ وسلم ایک مدبر قائد بھی تھے اور جنگی امور کے ماہر بھی، آپ کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک طرف دشمن کے کسی بھی ممکنہ ایڈونچر کے پیش نظر اپنی جنگی اور دفاعی تیاریاں پوری رکھنی ہیں تو دوسری جانب آخری وقت تک یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ جنگ ٹلتی رہے تو اچھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی سازشوں کے توڑ کے لیے انٹیلیجنس معلومات کا حصول بھی حکمت رسول میں شامل ہے۔
حافظ وقاص خان نے کہا کہ رسول اکرمﷺ کی جنگی حکمت عملی سے یہ درس بھی ملتا ہے کہ دین، ملت اور حق کی خاطر اپنے قریںی عزیزوں کو بھی میدان جنگ میں اتارنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔
کیمپس انچارج ڈاکٹر احتشام الحق نے صدارتی خطبے میں کہا کہ طلبہ کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھنا اور جنگ جیسے امور کو سیرت رسولﷺ کی روشنی میں سمجھانا اردو یونیورسٹی کے ویژن کی عکاسی ہے۔
اس موقع پر شعبہ ابلاغ عامہ اور آئی آر کے سربراہ ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ 27 کے قریب غزوات لڑی گئیں، دنیا آج بھی جنگ جیسے خطرناک عمل میں محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدبیر اور سیرت پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کی بقا کی طرف جا سکتی ہے۔
ڈائریکٹر سیرت النبیﷺ چیئر ڈاکٹر حافظ عبدالرشید نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو امن ہو یا جنگ، ہر حالت میں، ہر معاملے میں حضور کی ذات اقدس کو نمونہ عمل بنانا چاہیے۔
اسسٹنٹ پروفیسر ماس کمیونیکیشن ڈاکٹر سکندر زرین نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور تقریب میں اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جنگی حکمت عملی نے کہا کہ اور جنگ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔