بنگلہ دیشی عدالت نے جماعت اسلامی کے راہنما اظہر اسلام کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے کر فوری رہا کرنے کاحکم جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ڈھاکہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 27 مئی ۔2025 )بنگلہ دیش کی اعلی عدالت نے جماعت اسلامی کے راہنما اظہر اسلام کو جنگی جرائم کے الزامات کے تحت دی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں دسمبر 2014 میں بنگلہ دیش میں ایک خصوصی ٹربیونل نے اظہر اسلام کو 1971 کی پاکستان کے خلاف ”جنگ آزادی“ کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی.
(جاری ہے)
بنگلہ دیش کی اعلی عدالت کے سات رکنی اپیلنٹ بینچ نے چیف جسٹس ڈاکٹرسیدرفعت احمد کی سربراہی میں اظہر اسلام کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ا نہیں رہا کرنے کا حکم جاری کیا عدالت نے کہا ہے کہ اگر اظہر اسلام کے خلاف اور کوئی کیس موجود نہیں ہے تو انہیں فوری رہا کیا جائے. 30 دسمبر 2014 کو بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹربیونل نے اظہر اسلام کو 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی تھی انہوں نے اس سزا کے خلاف اپیل کی تھی تاہم اپیل میں بھی فیصلہ ان کے خلاف آیا اور 31 اکتوبر کو اپیلنٹ ڈویژن نے ان کی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا جولائی 2020 میں انہوں نے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی تھی جس پر آج فیصلہ سنایا گیا ہے. عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم بدلہ نہیں بلکہ انصاف چاہتے تھے یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ انصاف کو دبایا نہیں جا سکتا یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں 2010 میں دو مختلف ٹربیونلز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جن کا کام مبینہ جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کرنا تھا ان عدالتوں کی تشکیل سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے. بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے شیخ حسینہ واجد کے قائم کردہ ان ٹربیونلزکو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے الزامات عائد کیئے تھے 2010 کے بعد ان ٹرائبیونلز نے جن افراد کو مجرم ٹھہرایا گیا ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بنگلہ دیش کی حزب اختلاف کی پارٹی جماعت اسلامی سے تھا جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے اور بند کمروں میں ہونے والی ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا تھا کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹربیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی اظہر اسلام سزائے موت کے خلاف
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔