علی امین گنڈاپور بہروپیا ہے، مکھن کا پورا ٹرک لے آتا ہے، خواجہ محمد آصف
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں بہروپیا اور چاپلوس قرار دیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ بطور وزیر دفاع ایسی گفتگو نہیں کرسکتا جیسی علی امین گنڈاپور کرتے ہیں، یہ تو مکھن کا پورا ٹرک لے آتے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ایک اہم اجلاس میں وزیراعظم کو خود کہنا پڑا کہ گنڈاپور صاحب، آپ کی گفتگو سن کر خوشی ہوئی، ایسی گفتگو تو باقی 3 وزرائے اعلیٰ بھی نہیں کرسکے۔ خواجہ آصف کے مطابق، یہ اندر کچھ اور بات کرتے ہیں، باہر کچھ اور، یہ بہروپیے ہیں۔ ان کے بیانات سیاسی دکانداری کے لیے ہوتے ہیں، مگر ان کی دکان پر کوئی گاہک نہیں آتا، اس لیے انہیں نظر انداز کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے گنڈاپور کے بیان کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے جتنے فوجی جوان شہید ہوئے، سب کو معلوم ہے، دہشتگردی کی ذمہ داری اداروں پر ڈالنا زیادتی ہے۔
مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور سے عوام کو نجات تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ملے گی، فیصل کریم کنڈی
خواجہ آصف نے کہا کہ علی امین گنڈاپور وفاقی حکومت اور اداروں پر غیر ذمہ دارانہ تنقید کر رہے ہیں، جس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین کے لیڈر نے خود دہشتگردوں کو خیبرپختونخوا میں لا کر بسایا، آج صوبے کے مختلف علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق، پی ٹی آئی کے اندر سے بھی علی امین اور ان کی قیادت پر تنقید کی جا رہی ہے، اور انہیں ’دو نمبر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
افغان امور پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اور سفارتخانہ موجود ہے، لیکن افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ہم اپنے قومی مفاد میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ ختم ہو چکی ہے، اس لیے پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:آنکھیں لال کرنے والی چیزوں میں آج بھی غصہ دوسرے نمبر پر ہے
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملک میں جاری کئی غیر قانونی کاروبار، ٹرانسپورٹ پر قبضے اور غیر قانونی کالونیاں افغان باشندوں کے زیر انتظام ہیں۔ ان کے بقول، اقوام متحدہ اور نیٹو اب تک افغان شہریوں کو نہیں لے جا سکے، جو اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیسے بھارت اور ایران کے ساتھ بارڈر کنٹرول ہے، ویسے ہی افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی نظم و ضبط ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک عدم اعتماد جنرل عاصم منیر خواجہ محمد آصف شہباز شریف علی امین گنڈاپور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد خواجہ محمد ا صف شہباز شریف علی امین گنڈاپور علی امین گنڈاپور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں