وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں بہروپیا اور چاپلوس قرار دیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ بطور وزیر دفاع ایسی گفتگو نہیں کرسکتا جیسی علی امین گنڈاپور کرتے ہیں، یہ تو مکھن کا پورا ٹرک لے آتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ایک اہم اجلاس میں وزیراعظم کو خود کہنا پڑا کہ گنڈاپور صاحب، آپ کی گفتگو سن کر خوشی ہوئی، ایسی گفتگو تو باقی 3 وزرائے اعلیٰ بھی نہیں کرسکے۔ خواجہ آصف کے مطابق، یہ اندر کچھ اور بات کرتے ہیں، باہر کچھ اور، یہ بہروپیے ہیں۔ ان کے بیانات سیاسی دکانداری کے لیے ہوتے ہیں، مگر ان کی دکان پر کوئی گاہک نہیں آتا، اس لیے انہیں نظر انداز کرنا چاہیے۔

وزیر دفاع نے گنڈاپور کے بیان کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے جتنے فوجی جوان شہید ہوئے، سب کو معلوم ہے، دہشتگردی کی ذمہ داری اداروں پر ڈالنا زیادتی ہے۔

مزید پڑھیں:علی امین گنڈاپور سے عوام کو نجات تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ملے گی، فیصل کریم کنڈی

خواجہ آصف نے کہا کہ علی امین گنڈاپور وفاقی حکومت اور اداروں پر غیر ذمہ دارانہ تنقید کر رہے ہیں، جس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین کے لیڈر نے خود دہشتگردوں کو خیبرپختونخوا میں لا کر بسایا، آج صوبے کے مختلف علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق، پی ٹی آئی کے اندر سے بھی علی امین اور ان کی قیادت پر تنقید کی جا رہی ہے، اور انہیں ’دو نمبر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

افغان امور پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اور سفارتخانہ موجود ہے، لیکن افغان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ہم اپنے قومی مفاد میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ ختم ہو چکی ہے، اس لیے پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں:آنکھیں لال کرنے والی چیزوں میں آج بھی غصہ دوسرے نمبر پر ہے

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملک میں جاری کئی غیر قانونی کاروبار، ٹرانسپورٹ پر قبضے اور غیر قانونی کالونیاں افغان باشندوں کے زیر انتظام ہیں۔ ان کے بقول، اقوام متحدہ اور نیٹو اب تک افغان شہریوں کو نہیں لے جا سکے، جو اب بھی پاکستان میں مقیم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیسے بھارت اور ایران کے ساتھ بارڈر کنٹرول ہے، ویسے ہی افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی نظم و ضبط ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تحریک عدم اعتماد جنرل عاصم منیر خواجہ محمد آصف شہباز شریف علی امین گنڈاپور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد خواجہ محمد ا صف شہباز شریف علی امین گنڈاپور علی امین گنڈاپور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج