نیب جملہ کیس : مریم نواز ، کیپٹن (ر)صفدر، راناثنا، بلال یاسین بری
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے نیب آفس حملہ کیس میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور دیگر لیگی رہنمائوں کے خلاف اخراج کیس کی رپورٹ منظور کرتے ہوئے سب کو مقدمے سے بری کر دیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق مریم نواز کی نیب آفس پیشی کے موقع پر پتھرائو کے الزامات ثابت نہیں ہوئے، مقدمہ کا مدعی ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب چودھری اصغر عدالت میں پیش ہوا، عدالت کے استفسار پر مدعی نے کہا کہ اسے اخراج رپورٹ پر کوئی اعتراض نہیں۔ پولیس کے مطابق مقدمہ 2020 میں تھانہ چوہنگ میں ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محمد اصغر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز، رانا ثناء اللہ، کیپٹن (ر) صفدر، بلال یاسین اور دیگر لیگی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمے کے مطابق مریم نواز کی رائیونڈ اراضی کیس میں نیب پیشی کے موقع پر کارکنوں نے پولیس پر پتھرائو کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔