احساس اپنا گھر اسکیم حکومت کا غریب پرور منصوبہ ہے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں 4 ارب روپے کی لاگت سے احساس اپنا گھر اسکیم شروع کردی۔
اس اسکیم کے تحت کم آمدنی والے لوگوں کو گھر بنانے کےلیے بلاسود 15 لاکھ روپے تک کے قرضے دیے جا رہے ہیں۔
قرضوں کے چیکس تقسیم کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں علی امین گنڈاپور نے کامیاب درخواست دہندگان کو بلاسود قرضوں کے چیکس تقسیم کیے۔ انھوں نے کہا یہ اسکیم حکومت کا ایک فلیگ شپ اور غریب پرور منصوبہ ہے۔
یہ قرضے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسکیم کے تحت 18سے 65 سال کی عمر کے وہ افراد قرض لینے کے اہل ہیں جن کی ماہانہ آمدنی ڈیڑھ لاکھ روپے سے کم ہو۔ یہ قرضے سات سال کی مدت میں آسان قسطوں میں واپس کرنے ہوں گے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ صوبے کےمعاشی مسائل بہت حد تک حل ہو چکے ہیں۔ عنقریب مستحق گھرانوں کو سولر سسٹم کی فراہمی کے منصوبے کا بھی اجرا کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔