علی امین گنڈاپور خود چاہتے تھے کہ وفاق کے ساتھ حالات خراب ہوں: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور خود چاہتے تھے کہ وفاق کے ساتھ حالات خراب ہوں۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور ایک غیرسیاسی اور غیرسنجیدہ شخصیت تھے، وہ کبھی گورنر ہاؤس سے نکالنے کی بات کرتے تھے تو کبھی کہتے بلاول بھٹو زرداری کو کے پی نہیں آنے دوں گا۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ بڑی بڑی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، عہدہ ملنے پر عاجزی اختیار کرنی چاہیے، علی امین گنڈاپور کے جانے پر جتنی خوشی پی ٹی آئی میں ہے، اتنی اپوزیشن میں نہیں، بہت جلد پی ٹی آئی یوم نجات منائے گی۔
26نومبر احتجاج کیس؛عدم پیشی پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری، ضامن کے ایک لاکھ روپے کے مچلکے ضبط، پولیس افسران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
انہوں نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کے لیے وزیراعلیٰ جرگہ بنا رہے ہیں تو خوش آئند اقدام ہے، سہیل آفریدی کو سب سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے، سہیل آفریدی پارلیمانی جرگہ تشکیل دے کر ہر ضلع کا دورہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ جرگے میں اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے، حکومت کو خود دیکھنا چاہیے کہ علی امین گنڈاپور کے کون سے فیصلے غلط تھے۔ باہر آکر علی امین بڑی باتیں کرتے تھے لیکن اندر ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ موجودہ حکومت کو جلد اندازہ ہو جائے گا کہ علی امین نے کہاں غلطیاں کیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بریفنگ دی جا رہی ہے، چند دنوں میں سب کچھ واضح ہو جائے گا اور وزیراعلیٰ بہتری لائیں گے، جہاں وزیراعلیٰ کو گورنر ہاؤس یا اپوزیشن کی مدد درکار ہوگی، مثبت رسپانس دیں گے۔
پنڈی ٹیسٹ: آصف آفریدی کے ڈیبیو پر پانچ شکار، پاکستان کی پوزیشن مستحکم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کہ علی امین نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔