کراچی میں لوڈشیڈنگ: کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست بحال
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے شہریوں کو درپیش شدید لوڈشیڈنگ کے خلاف قانونی جنگ ایک بار پھر نئی سمت اختیار کر گئی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو بحال کر دیا ہے۔ یہ وہی درخواست ہے جسے رواں سال 25 مئی کو درخواست گزار کے وکیل کی عدم حاضری کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا تھا۔ اب عدالت نے اس درخواست کو دوبارہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے، جس سے کراچی میں بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوڈشیڈنگ کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ایک نئی امید ملی ہے۔
درخواست کی بحالی اس وقت ممکن ہوئی جب جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت میں باقاعدہ حلف نامہ جمع کروایا جس میں وضاحت کی گئی کہ وہ خود تو غیر حاضر تھے، لیکن درخواست گزار اور ان کے قانونی معاون اس روز عدالت میں موجود تھے، جن کی حاضری کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
عدالت نے اس وضاحت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل ماضی میں مسلسل ہر سماعت میں شریک رہے ہیں، اس لیے ایک موقع کی غیر حاضری کو بنیاد بنا کر درخواست کا اخراج مناسب نہیں۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے وکیل نے درخواست کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت آ چکا ہے اور وہاں فیصلہ بھی ہو چکا ہے، اس لیے اس درخواست کو دوبارہ سننے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کیا گیا مقدمہ ناقابل سماعت ہے۔
اس کے برعکس جماعت اسلامی نے اپنے مؤقف میں زور دیا ہے کہ کے الیکٹرک کا یہ دعویٰ کہ شہر کے 70 فیصد فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، حقیقت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ سیکڑوں شہری کے الیکٹرک کی ناقص سروس، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف شکایات درج کرا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ذرائع سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ کمپنی کے اعدادوشمار اور زمینی حقائق میں واضح تضاد موجود ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائے اور کے الیکٹرک کو قانون کے مطابق شہریوں کو معیاری، منصفانہ اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کا پابند بنائے۔
جماعت اسلامی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں لوڈشیڈنگ کو بجلی چوری یا واجبات کی عدم ادائیگی سے جوڑنا ایک ناقابل قبول پالیسی ہے، کیونکہ اس سے اجتماعی سزا کے اصول کو فروغ ملتا ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کی جانب سے اس درخواست کو بحال کیے جانے کے بعد یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ کراچی میں بجلی کی فراہمی کے حوالے سے کے الیکٹرک کی پالیسیوں اور اقدامات پر ایک بار پھر تفصیلی عدالتی نظرثانی کی جائے گی، جو شہریوں کے دیرینہ مسائل کے حل کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے الیکٹرک درخواست کو کے خلاف کے وکیل بجلی کی
پڑھیں:
کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔
بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔
اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :