گلگت بلتستان میں اساتذہ کی ہڑتال، حکومت نے چار رکنی کمیٹی بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کمیٹی میں سکریٹری تعلیم، سکریٹری سروسز، سکریٹری وزیراعلی سکریٹریٹ، اور فنانس ڈپارٹمنٹ کے نمائندے شامل ہونگے۔ وزیراعلی کی ہدایت پر بنائی گئی کمیٹی اساتذہ کے معاملات پر غور کرے گی اور رپورٹ مرتب کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان حکومت نے اساتذہ کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے چار رکنی کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی میں سکریٹری تعلیم، سکریٹری سروسز، سکریٹری وزیراعلی سکریٹریٹ، اور فنانس ڈپارٹمنٹ کے نمائندے شامل ہونگے۔ وزیراعلی کی ہدایت پر بنائی گئی کمیٹی اساتذہ کے معاملات پر غور کرے گی اور رپورٹ مرتب کرے گی۔ سکریٹری تعلیم سید اختر رضوی نے کہا ہے کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں، بچوں کا مستقبل انکے ہاتھوں میں ہے، بچوں کے مستقبل کو اپنے مطالبات کی بھینٹ نہ چڑھائیں، ان کا قیمتی وقت ضائع ہو جائے تو اس کی تلافی ممکن نہیں، مطالبات کو قانون اور آئین کے مطابق ادارے جانچ رہے ہیں، وزیر اعلی حاجی گلبر خان کی ہدایت پر اساتذہ کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے پہلے ہی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے سرکاری سکولوں کے ٹیچرز نے گزشتہ چار روز سے کلاسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ اساتذہ کے بائیکاٹ کی وجہ سے تدریسی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔