ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں شروع ہوگیا۔

ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین عبدالخبیر آزاد کررہے ہیں، زونل کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے مقامات پر ہورہے ہیں۔

کراچی میں آج غروب آفتاب کا وقت 7 بجکر 15 منٹ ہے اور اس وقت چاند کی عمر 11 گھنٹے 34 منٹ ہوگی، چاند دیکھنے کے لیے عمر تقریباً 24 گھنٹے یا اس سے زائد ہونی چاہیے۔

سپارکو کا کہنا ہے آج چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ آج غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر گیارہ گھنٹے ہوگی۔ یکم ذی الحجہ 29 مئی کو ہونے کی توقع ہے۔ آج چاند نظر نہیں آتا تو عیدالاضحی سات جون کو ہونے کا امکان ہے۔

سعودی عرب میں ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کیلئے اجلاس آج ہوگا۔ سعودی ماہرفلکیات کا کہنا ہے آج چاند نظر آنے کا امکان ہے۔

متحدہ عرب امارات کے فلکیاتی مرکز کا بھی یہی کہنا ہے کہ آج ذی الحجہ کا چاند آج نظر آنے کا امکان ہے۔ متحدہ عرب امارات میں عیدالاضحیٰ 6 جون کو ہوسکتی ہے۔ ابوظبی میں چاند دوربین کے ذریعے دیکھا جاسکے گا۔ عمان، مقبوضہ بیت المقدس اور قاہرہ میں چاند آنکھ سے دیکھنا ممکن ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ذی الحجہ کا چاند دیکھنے چاند دیکھنے کے لیے ج چاند نظر

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف