لاہور:

جنوبی افریقہ سے غیر قانونی طور پر لائے گئے بندروں کی تحویل، دیکھ بھال اور محفوظ پناہ گاہ میں منتقلی کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے جہاں کیس کی سماعت جمعرات کو متوقع ہے۔

جنوبی افریقہ سے غیرقانونی طور پر لائے گئے بندر رواں برس جنوری میں کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام نے تحویل میں لیے تھے، جن کی مجموعی تعداد 24 تھی، کسٹمز کی کارروائی کے بعد یہ بندر جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم اے سی ایف کے حوالے کیے گئے، تاہم منتقلی کے دوران دو بندر ہلاک ہوگئے تھے۔

جانوروں کے حقوق کے وکیل التمش ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ مقدمہ پاکستان میں جنگلی جانوروں کی نجی ملکیت، غیر فطری ماحول میں رکھے جانے اور نمائش کے خلاف ایک اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔

التمش سعید کے مطابق  پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جنگلی جانوروں کو نجی ملکیت میں رکھنے پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے لیے قدرتی ماحول سے ہم آہنگ مراکز یعنی سینچری طرز کی محفوظ پناہ گاہیں قائم کی جائیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس میں درخواست گزاروں کی نمائندگی التمش سعید ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ کے وکیل محمد احمد پانسوٹہ اور لاہور ہائی کورٹ کی وکیل صباح فاروق کر رہی ہیں جبکہ کیس میں سیکریٹری جنگلات اور جنگلی حیات اور فشریز پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے ایک کمیٹی کے ذریعے اے سی ایف کی پناہ گاہ کا معائنہ کرنے کے بعد بندروں کو لاہور چڑیا گھر منتقل کرنے کی سفارش کی ہے، وزارت نے فوری منتقلی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے لاہور چڑیا گھر کو ترجیحی مقام قرار دیا ہے تاہم اس تجویز پر سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ اور اے سی ایف دونوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سندھ وائلڈ لائف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ بندر "تحفظ یافتہ" جانور ہیں اور ان کا کیس فی الحال کراچی کی کسٹمز عدالت میں زیرِ سماعت ہے لہٰذا کسی بھی منتقلی سے قبل قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔

سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 2020 کے تحت محکمہ سندھ میں لائے گئے، جنگلی جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مجاز ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور سندھ وائلڈ لائف پر مشتمل ماہرین کی ایک کمیٹی نے  اے سی ایف سینٹر کا معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں بندروں کی لاہور منتقلی کو ان کی فلاح کے منافی قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق بندروں کے لیے مخصوص قدرتی ماحول درکار ہے، جو لاہور چڑیا گھر میں ممکن نہیں ہے۔

ادھر جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم اے سی ایف کا کہنا ہے کہ پچھلے 5 ماہ سے بندروں کی مسلسل نگہداشت کی جا رہی ہے اور اب انہیں واپس لینا ناانصافی ہے۔

تنظیم نے سوال اٹھایا کہ اگر ان کی دیکھ بھال میں کوئی کمی تھی تو جب یہ معاملہ تین ماہ قبل سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا، تب ہی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

التمش سعید کا کہنا تھا کہ وہ بھی ان بندروں کو لاہور چڑیا گھر منتقل کرنے کے حق میں نہیں ہیں، ان بندروں کو ان کے قدرتی ماحول یا اس سے ہم آہنگ ماحول میں منتقل کیا جانا چاہیے، وزارت موسمیاتی تبدیلی کا یہ اختیار نہیں کہ وہ ان بندروں کی منتقلی کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سندھ وائلڈ لائف لاہور چڑیا گھر بندروں کی اے سی ایف کے لیے

پڑھیں:

وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک

استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت