حمیرا اصغر کی پرسرار موت کا معاملہ عدالت جا پہنچا، شہری نے قتل کا شبہ ظاہرکردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اداکارہ حمیرا اصغر علی کی کراچی کے علاقے ڈیفینس کے ایک فلیٹ سے انتہائی خراب حالت میں لاش برآمد ہونے کا معاملہ کراچی کی ضلعی عدالت تک جا پہنچا ہے، جہاں ایک شہری نے ان کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ 42 سالہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز 6کے ایک اپارٹمنٹ سے اس وقت برآمد ہوئی جب مالک مکان کی جانب سے کرایہ ادا نہ ہونے پر عدالتی حکم کے تحت بے دخلی کی کارروائی کی جا رہی تھی۔
پولیس کے مطابق لاش انتہائی گل سڑ چکی تھی اور بظاہر یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اداکارہ کی موت کم از کم چھ ماہ قبل، یعنی اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کی لاہور میں تدفین کردی گئی
اس واقعے پر نیا موڑ اُس وقت آیا جب کراچی کے شہری شاہزیب سہیل نے سیشن جج جنوبی کراچی کی عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حمیرا کی موت طبعی نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق واقعے کی ویڈیوز اور شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ فطری موت نہیں تھی، اداکارہ کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہونا اور ان کا لاش کی وصولی سے لاتعلق رہنا بھی شکوک کو جنم دیتا ہے، لہٰذا خاندان کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے۔
درخواست میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بنایا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دے اور قتل کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دے۔
مزید پڑھیں: حمیرا اصغر کا آخری آڈیو پیغام کیا تھا اور یہ کسے بھیجا گیا تھا؟
ابتدائی تفتیش میں پولیس نے قتل کے امکان کو مسترد کر دیا تھا، کیونکہ اپارٹمنٹ اندر سے بند تھا اور زبردستی داخلے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
تاہم، فورینزک شواہد جیسے کہ ستمبر 2024 میں ایکسپائر ہونے والی اشیائے خورونوش، بجلی کی بندش، اور ان کے موبائل فون کی غیر فعالیت، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ موت کئی ماہ پرانی تھی۔ پولیس اب ان کے فون ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی چھان بین کر رہی ہے۔
تماشا گھر اور فلم جلیبی میں نمایاں اداکاری سے مشہور حمیرا اصغر نہ صرف ایک باصلاحیت فنکارہ تھیں بلکہ وہ مصوری اور مجسمہ سازی میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 7 لاکھ 15 ہزار سے زائد فالوورز تھے، اور ان کی آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو سامنے آئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپارٹمنٹ پراسرار موت حمیرا اصغر ڈیفینس کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپارٹمنٹ پراسرار موت ڈیفینس کراچی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔