غزہ پر بمباری سے متعدد گھر تباہ، مزید 78 فلسطینی شہید، اسرائیل کا لبنان پر بھی حملہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
غزہ(نیوز ڈیسک)اسرائیلی فوج کے غزہ کے مختلف علاقوں پر حملوں کے نتیجے میں مزید 78 فلسطینی شہید ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ سٹی میں بمباری سے 39 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ کئی گھر ملبے کا ڈھیربن گئے، بمباری سے امداد لینے کے منتظر 9 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ خوراک تقسیم کرنے والے دو امریکی امدادی کارکن بھی زخمی ہوئے۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن کے باہر حملوں میں 743 فلسطینی شہید ہو ئے، فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 57 ہزار418 ہوگئی۔
دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کے مختلف مقامات پربھی بمباری کی، اسرائیلی فوج نے یمن کے بندرگاہی علاقوں کے مکینوں کو انخلا کی وارننگ بھی دے دی۔
پاک فضائیہ کے ہاتھوں رافیل کی تباہی کے بعد چین نے بھی بڑا سرپرائز دے دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فلسطینی شہید
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔