data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) الحرمین اسلامک انسٹیٹیوٹ مٹھی تھر پارکر کے سرپرست اعلیٰ فضیلة الشیخ مولانا اصغر علی سمیجو نے کہا ہے کہ ایمان واعمال سے فقط آخرت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالی نے دنیا میں بھی عمدہ اور پاکیزہ زندگی نصیب کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ ایمان، یعنی اللہ پر اسکے رسولوں پر اسکے فرشتوں پراس کی طرف سے نازل شدہ کتابوں پر قیامت کے دن پر اچھی اور بری تقدیر پر اس طرح پختہ یقین رکھنا جس طرح اللہ نے اپنی کتاب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں بیان فرمایا ہے اور اسی پختہ ایمان کی بنیاد پر اعمال صالحہ کی عمارت کھڑی ہوتی
ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع محمدی مسجد اہلحدیث قلعہ دروازہ حیدرآباد میں ”ایمان و عمل صالح “کے عنوان پر دنیاوی و آخروی فوائد وبرکات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا اصغر علی سمیجو نے مزید کہاکہ اعمال صالحہ سے مراد شریعت کے سارے احکامات میں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ان میں اسی طرح اطاعت کرنا اور خالص اللہ کی رضا کے لیے بجا لانا اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے ہم مسلمان بازآجائیں ۔ایمان و عمل صالح دونوں کے امتزاج سے انسان دنیا میں اطمینان اور خوشحالی حاصل کرتا ہے اور آخرت میں جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمان اور نیک اعمال انسان کے دل کو سکون اور اطمینان بخشتے ہیں، اس سے ذہنی انتشار اور بے چینی دور ہوتی ہے،ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے انسان زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کرتا ہے اور خوشحال رہتا ہے۔ایمان اور عمل صالح رکھنے والے لوگوں کی اللہ ہر مشکل میں مدد کرتا ہے،ایمان اور عمل صالح کرنے والے افراد کو اللہ جنت میں داخل کرے گا جبکہ ایمان انسان کو نیک اعمال کرنے کی تحریک دیتا ہے اور عمل صالح ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔انہوںنے کہا کہ دنیا میں ایمان اور عمل صالح کے ذریعے انسان اطمینان اور خوشحالی حاصل کرتا ہے اور آخرت میں جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایمان اور عمل صالح کرتا ہے ہے اور

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم