لاہور: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ 10 گنا تک بڑھانے کا اصولی فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
پنجاب حکومت کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ 10 گنا تک بڑھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں دورانِ ڈرائیونگ موبائل کے استعمال پر بھاری جرمانہ عائد کرنے پر اصولی اتفاق اور ٹریفک پولیس کی یونیفارم تبدیل کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر ان کے والد ذمے دار قرار پائیں گے اور ان کے خلاف مقدمہ درج ہوگا، گاڑی سے باہر خطرناک انداز سے لٹکتے سریے وغیرہ پر گاڑی بند کر دی جائے گی جبکہ ون ویلنگ یا خطرناک طرزِ ڈرائیونگ پر مقدمہ درج ہوگا۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اجلاس کے دوران بیدیاں اور دیگر روڈز پر ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں فوری طور پر دور کرنے اور ٹریفک جام کی پیشگی نشاندھی کے لیے روڈ سائیڈ ڈیجیٹل اسکرین لگانے کا حکم دیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ ٹریفک چالان کے ساتھ ویڈیو اور تصویری ثبوت بھی منسلک کیے جائیں۔
مریم نواز نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ خود شہر کی مختلف سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتی ہوں، ٹریفک کے نظام میں بہتری نظر نہیں آرہی ہے، ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرنے ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔