پی ٹی آئی وکلاء کی سپرداری درخواستوں میں تکنیکی غلطیاں، دوبارہ دائر کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کی بہن رہنما علیمہ خان کی ضبط شدہ اشیاء موبائل فون اور جیولری کی سپرداری کے لیے دائر کردہ درخواستوں میں تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
عدالت نے وکلاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ درخواستوں میں کی گئی غلطیوں کو درست کر کے دوبارہ دائر کریں۔
علیمہ خان کی جانب سے ایڈووکیٹ انصر کیانی اور ایڈووکیٹ شمسہ کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ علیمہ خان کی اشیاء کی سپرداری کے لیے متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا تھا۔
جج طاہر عباس سپرا نے درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ اپنی درخواستیں دیکھیں، آپ نے فریق کس کو بنایا ہوا ہے، جس پر ایڈووکیٹ شمسہ کیانی نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی سپرداریاں کروائی ہیں اور متعلقہ حکام ہی فریق تھے۔
ایڈووکیٹ انصر کیانی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اپنی غلطی کا ادراک ہوگیا ہے اور وہ موجودہ درخواست میں ہی تصحیح کر لیں گے، جس پر عدالت نے ہدایت دی کہ نہیں، آپ دوبارہ نئی درخواستیں دائر کریں۔
واضح رہے کہ علیمہ خان کو 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اب ان کی ذاتی اشیاء کی واپسی کے لیے عدالتی کارروائی میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔