سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے سینیٹ الیکشن کا شیڈول جاری کردیا ہے، لیکن صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ہے، جس کے باعث ایوان بالا کےانتخابات ایک بار پھر ملتوی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے، جبکہ انتخابات سے قبل مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان کا حلف اٹھانا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات، حکومت اور اپوزیشن کو کتنی نشستیں ملنے کا امکان ہے؟

صوبائی حکومت خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کیوں نہیں بلا رہی؟

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس یکم جولائی تک ملتوی کیا گیا تھا، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے اور پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں سے محرومی کے بعد راتوں رات اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی کوشش ہے کہ مخصوص نشستوں پر آنے والے ارکان کا راستہ روکا جائے تاکہ وہ حلف نہ اٹھا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق سینیٹ الیکشن نہ ہو سکے۔

صوبائی حکومت کن آپشنز پر غور کررہی ہے؟

خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہونے کا خدشہ ہے، اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نئے نامزد امیدواروں کا راستہ روکنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کریں گے کہ بحیثیت پی ٹی آئی امیدوار انہوں نے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ عدالت میں مؤقف اپنائیں گے کہ 35 ارکان نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور انہی 35 ارکان کی بنیاد پر مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنی چاہییں۔ اسی لیے حکومت نے 21 جولائی تک اسمبلی اجلاس ہر صورت نہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینیٹ الیکشن کی صورت میں حکومت کو کتنی نشستیں ملیں گی؟

سینیئر صحافی اور پارلیمانی امور کے ماہر ظفر اقبال کے مطابق سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کو نقصان ہوگا۔ ’پہلے ہی مخصوص نشستیں نہیں ملیں، اور اسی بنیاد پر سینیٹ میں ان کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔‘

ظفر اقبال کے مطابق خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جن میں 7 جنرل، 2 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 2 ٹیکنوکریٹ کی نشستیں شامل ہیں۔

ان کے بقول اس تناسب سے اپوزیشن کو فائدہ ہوگا، اگر اپوزیشن جماعتیں متحد رہیں تو وہ 3 جنرل اور 2 مخصوص نشستیں حاصل کر سکتی ہیں، جبکہ باقی نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب ہوگی۔

انہوں نے مزید کہاکہ سینیٹ انتخابات میں ہمیشہ ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو جو بھی مضبوط امیدوار ہوں گے وہ فائدہ اٹھائیں گے۔

’پی ٹی آئی اجلاس نہیں بلا رہی‘

صحافی عارف حیات جو حکومتی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں، کے مطابق پی ٹی آئی کسی صورت بھی اجلاس بلانے پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بھی ایسا ہی ہوا تھا اور مخصوص نشستوں پر آنے والے امیدواروں کو حلف نہیں لینے دیا گیا، جس کی وجہ سے سینیٹ الیکشن ہی ملتوی کردیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ آئینی ہے اور سپریم کورٹ کا واضح حکم بھی موجود ہے، تاہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ’پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی صورت نئے ارکان کو حلف نہیں اٹھانے دینا۔‘

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات کا دلچسپ اور پیچیدہ عمل کیسے انجام پاتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس معاملے کو طول دینا چاہتی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ بخوبی جانتے ہیں کہ اب انہیں مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اجلاس ملتوی الیکشن کمیشن ایوان بالا چیلنج خیبرپختونخوا اسمبلی سپریم کورٹ سینیٹ الیکشن علی امین گنڈاپور مخصوص نشستیں وزیراعلی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اجلاس ملتوی الیکشن کمیشن ایوان بالا چیلنج خیبرپختونخوا اسمبلی سپریم کورٹ سینیٹ الیکشن علی امین گنڈاپور مخصوص نشستیں وزیراعلی وی نیوز خیبرپختونخوا اسمبلی سینیٹ انتخابات سینیٹ الیکشن الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں مخصوص نشستیں سپریم کورٹ وزیر اعلی نشستوں پر پی ٹی آئی سے سینیٹ کے فیصلے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی

حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی