تنخواہ دار طبقے کو ریلیف؟ آئی ایم ایف کی جانب سے اچھی خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بجٹ 26-2025 میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر مشروط رضامندی ظاہر کردی۔
سماء کے پروگرام “ریڈ لائن ود طلعت” میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر معاشی امور شہباز رانا نے کہا کہ حکومت کے پاس گنجائش تو کم ہے لیکن وزیراعظم اور وزیرخزانہ کو اس بات کا ادراک ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا زیادہ بوجھ ہے اور اس کو ہم نے کچھ کم کرنا ہے۔
شہباز رانا نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر آپ نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنا ہے تو کرلیجئے مگر پھر آپ پنشنرز کے اوپر ٹیکس لگا دیں، جو حکومت کے مطابق ایک مشکل فیصلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے 437 ارب روپے ٹیکس دیا، بجٹ میں تنخواہوں میں ٹیکس کم کرنے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
ماہر معاشی امور نے کہا کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کوئی مسلہ نہیں ہے، آئی ایم ایف صرف یہ کہتا ہے کہ جو اخراجات ہیں اس کے مقابلے میں محصولات کہاں سے آئیں گے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آج شرح سود 11 فیصد ہے، حکومت اگر شرح سود کو 9 فیصد پر لے آئے تو دفاعی ضروریات پوری ہوسکتی ہے۔
شہباز رانا کے مطابق آئی ایم ایف نے قرض پروگرام سے متعلق 50 شرائط عائد کی ہیں، جس میں بجٹ سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف نے حکومت سے سودی نظام کے خاتمے کی صورت میں موجودہ بینکنگ نظام کے متبادل حکمت عملی بنانے کا بھی کہہ دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: تنخواہ دار طبقے آئی ایم ایف کہا کہ
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔