آئی ایم ایف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے، تنخواہوں و پینشن میں اضافے پر رضامند
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
آئی ایم ایف نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور تنخواہوں اور پینشن میں اضافے پر مشروط رضامندی ظاہر کردی۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر حکومت تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دینا چاہتی ہے تو اس سے ہونیوالے ریونیو کے نقصان کو پورا کرنے کیلئے بڑے پنشنرز پر ٹیکس عائد کیا جائے۔
اس لئے حکومت شدید مشکل سے دوچار ہیں کیونکہ اگر پنشنرز پر ٹیکس لاگو کیا جتا ہے تو اس کا بھی شدید ردعمل آئے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں ٹیکس کم کرنے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے اور اس پر بھی آئی ایم ایف نے مشروط رضا مندی ظاہر کی ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ حکومت اخراجات میں کمی کرے اور اضافی ریونیو اکٹھا کرے تاکہ مالی گنجائش پیدا ہوسکے۔
اس کے علاوہ غیر ضروری سبسڈیز بھی ختم کی جائیں، ساتھ ہی غیر ضروری ٹیکس چھوٹ بھی ختم کی جائے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے بھی کوئی مسلہ نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کہنا ہے کہ
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔