بھارت سے واپس بھیجے گئے بہن بھائی کی کامیاب سرجری، بچوں کے والد آرمی چیف کے مشکور
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران بھارت سے واپس بھیجے گئے عبداللہ اور منسا کی اے ایف آئی سی میں کامیاب سرجری پر ان کے والد نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
عبداللہ اور منسا کا علاج بھارت میں جاری تھا مگر کشیدگی کے باعث بھارتی حکومت نے دونوں بچوں کو واپس بھیج دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں آرمی چیف کا احسن اقدام: بھارت سے واپس بھیجے گئے معصوم بچوں کا پاکستان میں مفت علاج
اس حوالے سے عبداللہ اور منسا کے والد شاہد احمد کا کہنا ہے کہ عبداللہ اور منسا کے کیس کا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوری نوٹس لیا اور اے ایف آئی سی نے سرجری کی، دونوں بچوں کی سرجری 9 سال سے نہیں ہو رہی تھی۔
انہوں نے کہاکہ اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں نے محنت کرکے اس سرجری کو کامیابی سے سرانجام دیا، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے بچوں کی ذمہ داری لی۔
شاہد احمد نے کہاکہ الحمد اللہ اب میرے بچے کافی بہتر ہیں، میں خود بھی مریض ہوں شاید صدمہ برداشت نہ کرپاتا، ڈاکٹروں نے بہت محنت کی جو قابل تعریف ہے، اے ایف آئی سی بہت بہترین ادارہ ہے۔
کمانڈنٹ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر میجر جنرل (ر) ڈاکٹر نصیر احمد سومرو کا کہنا تھا کہ اے ایف آئی سی پاکستان کا ایک پریمیئر کارڈیالوجی کا انسٹیٹیویٹ ہے۔
انہوں نے کہاکہ اے ایف آئی سی میں کارڈیالوجی کے علاج کے لیے بہترین سروسز دی جاتی ہیں، عبداللہ اور منسا دونوں بہن بھائی علاج کے لیے بھارت گئے تھے۔ تاہم پاک بھارت کشیدگی کے باعث بھارت نے بچوں کا علاج کرنے سے انکار کردیا اور بچے پاکستان واپس آگئے۔
انہوں نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی ہدایات پر ان بچوں کو یہاں بلایا گیا، یہاں پر ان بچوں کی اسسمنٹ کے بعد ایک ٹیم تشکیل دی گئی، اس ٹیم نے ان دونوں بچوں کا علاج پلان کیا اور الحمد اللہ، اللہ نے ہمیں کامیابی دی۔
ڈپٹی کمانڈنٹ اے ایف آئی سی بریگیڈیئر ڈاکٹر خرم اختر کا کہنا تھا کہ عبداللہ کے حوالے سے ہم نے ایک میڈیکل پلان مرتب کیا جو الحمدللہ ٹھیک رہا۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس الحمد اللہ قابل ٹیم ہے اور غیر ممالک سے تربیت یافتہ ہے، عبداللہ اور منسا کو دل کی نہایت پیچیدہ بیماری تھی جس کے باعث ان کی سرجری ایک مرحلے میں مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔
انہوں نے کہاکہ عبداللہ کی یہ سرجری 5 سے 6 گھنٹے پر محیط تھی جو الحمد اللہ کامیاب رہی۔
کرنل ڈاکٹر داؤد کمال کا کہنا ہے کہ ہم نے ان کو وہ پلان دیا جو بھارت کے ڈاکٹرز کی جانب سے دیے گئے پلان سے بہت بہتر تھا، الحمد اللہ دونوں بچے بہت بہتر ہیں اور گھر جانے کی پوزیشن میں ہیں۔
کرنل ڈاکٹر محمد عبداللہ نے کہاکہ یہ بچے جب بھارت سے واپس آئے تو ان کے کیسز anesthesia کے نقطہ نظر سے مشکل تھے۔
یہ بھی پڑھیں زندگی اور موت کی جنگ: بھارتی ویزا منسوخی سے 10 ماہ کی مشکوٰۃ فاطمہ کا علاج معطل
کرنل ڈاکٹر محمد عدنان اکرم نے کہاکہ بھارت سے واپس آنے والے عبداللہ کا کیس ہماری ٹیم کے لیے چیلنج تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت سے واپسی سید عاصم منیر فیلڈ مارشل کامیاب سرجری مشکور وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت سے واپسی فیلڈ مارشل کامیاب سرجری مشکور وی نیوز عبداللہ اور منسا انہوں نے کہاکہ اے ایف ا ئی سی بھارت سے واپس الحمد اللہ فیلڈ مارشل کا کہنا کا علاج کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔