ترکیہ، پاکستان آذربائیجان تین ملک اورایک قوم ہیں,دوستی کومزید مضبوط بنائیں گے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف نے لاچین میں آذربائیجان کے یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی حاصل کی، ایسے ملک کوشکست دی جو دفاع پر اربوں ڈالرخرچ کرتا ہے. پہلگام واقعے کی آڑمیں پاکستان پر بے بنیاد الزام لگایا۔ الہام علیوف نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ترکیہ، پاکستان اورآذربائیجان کا تعاون مزید مستحکم ہوگا.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان کے عوام کو یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ترکیہ اور پاکستان کے سربراہان بھی آج کی تقریب میں شریک ہیں۔ ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان کا تعاون مزید مستحکم ہوگا۔آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے.ترکیہ اور پاکستان کے رہنماؤں کی آج کی تقریب میں شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے. یومِ آزادی کی تقریب میں برادر ملکوں کی شرکت ہمارے لیے باعث فخر ہے۔الہام علیوف نے کہا کہ آرمینیا نے یہاں کے مقامی افراد کی نسل کشی کی. آرمینیا نے ہمارے علاقوں پر قبضے کی کوشش کی. آرمینیا کے تسلط پسندانہ عزائم کی وجہ سے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔انھوں نے خطاب میں کہا کہ 107 سال پہلے آذربائیجان نے آزادی حاصل کی. جس کے 7 سال کے بعد سوویت یونین نے قبضہ کیا۔ آذربائیجان کے یومِ آزادی کی تقریب اس خطے میں ہو رہی ہے جن علاقوں کو آزاد کرایا گیا۔الہام علیوف نے مزید کہا کہ آرمینیا کے قبضے سے آزاد ہونے والے علاقوں میں ترقی کا عمل جاری ہے۔ 2020 میں ہم نے آرمینیا کو شکست دی اور اپنے علاقے آزاد کرائے۔
لاچین میں ترکیہ کے صدر رجب اردوان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کے عوام کو یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ترکیہ، آذر بائیجان اور پاکستان تین ممالک اور ایک قوم ہیں۔ آذربائیجان کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ترکیہ کے صدر نے خطاب میں کہا کہ کارابخ کی آزادی سے آذربائیجان مزید مضبوط ہوا۔ ترکیہ ہر اچھے اور برے وقت میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے۔ آزاد ہونے والے علاقوں میں مختلف ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا ہے۔آذربائیجان کی یوم آزادی کے حوالے سے تقریب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
قبل ازیں، آذربائیجان کے شہر لاچین میں پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا سہ ملکی اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارت سے حالیہ کشیدگی میں ترکیہ اور آذربائیجان کے صدور کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ اور پاکستان نے خطاب میں کہا کہ الہام علیوف نے کہا کہ پاکستان آزادی کی تقریب آذربائیجان کا آذربائیجان کے پہلگام واقعے پیش کرتا ہوں میں پاکستان پاکستان نے پاکستان پر پاکستان کی نے کہا کہ بھارت نے انھوں نے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔