آذربائیجان کی یوم آزادی پر ترکیہ، پاکستان کے رہنماں کی شرکت دوستی کی عکاس ہے، الہام علیوف
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
آذربائیجان کی یوم آزادی پر ترکیہ، پاکستان کے رہنماں کی شرکت دوستی کی عکاس ہے، الہام علیوف WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز
لاچین (سب نیوز)آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کی آزادی کی تقریب میں ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم پاکستان بھی موجود ہیں جب کہ آج کی تقریب میں ترکیہ، پاکستان کے رہنماوں کی شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے۔
آذربائیجان کے شہر کالاچین میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔تقریب میں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی تقریب شریک تھے۔تقریب سے خطاب میں الہام علیوف کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے عوام کویوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آزادی کی تقریب میں ترکیہ اور پاکستان کے سربراہان بھی موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یوم آزادی کی تقریب میں برادر ملکوں ترکیہ اور پاکستان کی شرکت ہمارے لئے باعث فخر ہے، ترکیہ اور پاکستان کے رہنماں کی آج کی تقریب میں شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے، تینوں ممالک کا تعاون مزید مستحکم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس میں تینوں رہنماوں نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر آذربائیجان کا کہنا تھا کہ 107 سال پہلے آذربازئیجان پہلا آزاد مسلم ملک بنا جس پر 7 سال بعد روس نے قبضہ کیا، 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آذربائیجان آزاد ہوا مگر آرمینیا کی جارحیت جاری رہی۔انہوں نے کہا کہ آرمینیا نے ہمارے علاقوں پر قبضے کی کوشش کی، آرمینیا نے آذربائیجان کے مختلف علاقوں میں ہمارے لوگوں کی نسل کشی کی، آرمینیا کی غاصبانہ پالیسی کی وجہ سے لاکوں آذربائیجانی شہری قتل ہوئے یا پناہ گزین بنے۔ان کا کہنا تھا کہ 10 نومبر 2022 کو بالآخر ہم نے آرمینیا کو شکست دی اور نگورنو کاراباخ کو آزاد کرایا جب کہ آج آذربائیجان کے یوم آزادی کی تقریب اس خطے میں ہورہی ہے جسے آزاد کرایا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پاک سیکرٹریٹ کے ملازمین کیلئے مختص کئے گئے نئے پارکنگ ایریا کا اچانک دورہ ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان تین ملک ایک قوم ہیں، ترک و آذری صدرو کا ایک بار پھر پاکستان کی حمایت کا اعادہ ملک کے انچ انچ کی حفاظت کیلئے اپنے بچے بھی قربان کر دیں گے، شیخ وقاص اکرم پاکستان کا فتح راکٹ سسٹم دشمن کیلئے تباہی کا پیغام نائب وزیراعظم اسحاق ڈار 29تا 30مئی ہانگ کانگ کا دورہ کریں گے کچھ لو اور کچھ دو کے معنی این آر او نہیں تو کیا ہیں؟، عرفان صدیقی کا پی ٹی آئی سے سوال خیبر پختونخوا میں 33ارب روپے کے مفت سولرائزیشن منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دوستی کی عکاس ہے آزادی کی تقریب کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کے کی تقریب میں الہام علیوف پاکستان کے میں ترکیہ یوم آزادی کی شرکت
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان
لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔
حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔
کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے
الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔
کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔
دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔
مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار
ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔
انتخابی مہم عروج پرآزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟
اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن