الیکشن کمیشن نے پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب موخر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب موخر کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب موخر کر دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق کیس زیر سماعت ہونے پر پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 29 مئی کو ہونے والی پولنگ اب نہیں ہوگی۔پنجاب اسمبلی کا الیکٹورل کالج پورا ہونے پر نئے سینیٹر کا انتخاب ہوگا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سینیٹر ساجد میر کی نشست پر انتخاب عدالتی فیصلے سے مشروط ہے اور عدالت کے فیصلے تک سینیٹ انتخاب موخر رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں ذی الحج 1446ہجری کا چاند نظر آگیا پاکستان میں ذی الحج 1446ہجری کا چاند نظر آگیا وفاقی وزیر احسن اقبال کا این ایف سی ایوارڈ میں تقسیم وسائل کا معیار تبدیل کرنے کا مطالبہ پاکستان اور آذربائجان کے مابین سیاحت،آئل ریفانریز اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے،صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین عالمی بینک نے پاکستان میں اضافی درآمدی ٹیرف کو صنعتی ترقی کیلئے بڑی رکاوٹ قرار دیدیا پاکستان نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی حاصل کی، شہباز شریف اے ایف آئی سی سے کامیاب سرجری، عبداللہ اور منسا کے والد کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اظہارِ تشکرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب موخر
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔