اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +آئی این پی ) ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی اصولوں کے خلاف ہے،مودی کے بیانات   افسوسناک مگر  حیران کن  نہیں ہیں ۔دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق  ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے ایک بار پھر اشتعال انگیز بیانیے کو اپنایا ہے، جو نہ صرف علاقائی امن بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم کی جانب سے پانی جیسے مشترکہ اور معاہدے کے پابند وسیلے کو ہتھیار بنانے کی بات نہ صرف انتہائی افسوسناک ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات بھارت کے خطے میں اصل کردار اور اس کے عالمی دعوئوں میں کھلا تضاد ظاہر کرتے ہیں۔ترجمان کے مطابق، بھارتی قیادت کی جانب سے تاریخی حقائق کو مسخ کرنا، اقلیتوں کے خلاف جبر کی پالیسیوں کا دفاع کرنا، اور پانی جیسے مشترکہ وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکیاں دینا عالمی اصولوں سے واضح انحراف ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کا حالیہ خطاب ان کے علاقائی جارحانہ رویے اور عالمی عزائم کے درمیان موجود تضاد کو اجاگر کرتا ہے, اگر بھارتی قیادت واقعی عالمی احترام کی خواہاں ہے، تو اسے خود احتسابی کی راہ اپنانی چاہیے ۔ دفتر خارجہ نے بھارت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ بھارت غیرملکی مداخلت، بیرونِ ملک قتل و غارت، اور قبضے جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہے، خاص طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات کو ریاستی جبر اور ظلم قرار دیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت کے نظریاتی حامیوں نے ہجومی تشدد کو معمول بنا دیا ہے، اور ریاستی سرپرستی میں نفرت انگیز مہمات چلائی جا رہی ہیں، جن کا ہدف ملک کی مذہبی اقلیتیں ہیں۔ یہ اقدامات صرف سیاسی فائدے کے لیے کیے جاتے ہیں، لیکن ان کا کوئی عالمی جواز موجود نہیں۔پاکستان نے بھارت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی مہمات میں جنگی جنون وقتی تالیاں تو بجوا سکتا ہے، مگر یہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے خطرناک ہے، بھارتی نوجوان، جو اکثر قوم پرستانہ جنون کا پہلا شکار بنتے ہیں، اس منفی بیانیے کا سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قومی جذبات کو بھڑکانے والی سیاست وقتی طور پر تالیاں تو سمیٹ سکتی ہے مگر طویل المدتی امن اور استحکام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔ بھارت کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ خوف کی سیاست کو رد کریں اور وقار، دلیل اور خطے میں تعاون پر مبنی مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔ پاکستان نے مسجد اقصی پر اسرائیلی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت کرتے ہیں، اسرائیل کو جنگی جرائم پر جوابدہ بنایا جائے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا