UrduPoint:
2026-07-24@01:27:24 GMT

پاک بھارت کشیدگی عسکری کے بعد اب سفارتی میدان میں

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

پاک بھارت کشیدگی عسکری کے بعد اب سفارتی میدان میں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 مئی 2025ء) پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بھی آج کل ملکی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے ہمراہ ان ممالک کے دورے کر رہے ہیں جنہوں نے حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کی۔ یہ پاکستانی وفد ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان جیسے دوست ممالک کے دورے پر ہے۔ اس دورے میں وزیر اعظم شہباز شریف کا مقصد یہ ہے کہ ان دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جائے اور پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دی جائے۔

پاکستانی وفود کے یورپ اور امریکا کے دورے

اس کے علاوہ پاکستان کے دو اور اعلیٰ سطحی وفود امریکہ اور یورپ بھی روانہ ہو رہے ہیں۔ ان وفود میں حکومتی وزراء، اراکین پارلیمان، سینئر سیاستدان اور سابق سفارتکار بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

بلاول بھٹو زرداری، جو مختصر مدت کے لیے پاکستان کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں، امریکہ جانے والے پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی، پاکستان

یہ وفد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکی قانون سازوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا اداروں کے سرکردہ نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ ان کے سامنے بھارت کے ساتھ تصادم سے متعلق پاکستانی موقف کی وضاحت کی جا سکے۔

اس وفد میں مصدق ملک، حنا ربانی کھر، شیری رحمان، خرم دستگیر اور سابق سفیر جلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں۔

یہ پاکستانی وفد یکم جون کو نیو یارک پہنچے گا اور تین جون کو واشنگٹن میں اس وفد کے ارکان کی امریکی کے قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات چیت متوقع ہے۔ بھارت کے بھی آٹھ وفود 33 ممالک کے دوروں پر

دوسری طرف بھارت نے بھی اپنی سفارتی مہم تیز کر دی ہے۔ بھارتی رکن پارلیمان اور اقوام متحدہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار ششی تھرور امریکہ کے دورے گئے ہوئے بھارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

ان کے اس دورے میں گیانا، پاناما، کولمبیا اور برازیل کے سفر بھی شامل ہیں۔ بھارت نے دنیا کے 33 دارالحکومتوں میں اپنے آٹھ وفود بھیجے ہیں، جو وہاں پاک بھارت کشیدگی سے متعلق نئی دہلی کا بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔

ششی تھرور ایک تجربہ کار سفارتکار اور کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمان ہیں۔ وہ بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ بھی ہیں اور 27 کتابوں کے مصنف بھی۔

وہ اقوام متحدہ میں اپنی خدمات اور بھارتی وزارت خارجہ میں دو مرتبہ بطور وزیر اپنے کردار کے باعث عالمی سطح پر ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم کا مبینہ ’اشتعال انگیز‘ بیان اور پاکستان کا ردعمل

اسی طرح پاکستان کے بلاول بھٹو زرداری بھی ایک نمایاں سیاسی شخصیت ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے بیٹے اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور 2022 سے 2023 تک پاکستانی وزیر خارجہ کے طور پر خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کشیدگی برقرار

یہ جملہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہیں، جب جنوبی ایشیا میں کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے اور چند حکومتی شخصیات کے ساتھ ساتھ میڈیا کا کچھ حصہ بھی جنگی بیانیے کو تقویت دے رہا ہے۔

اس موضوع پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس وقت مؤثر دلائل موجود ہیں اور بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی حاصل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے علاوہ کسی ملک نے پاکستان کی پوزیشن پر اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ''بھارت کو یہ جواب دینا ہو گا کہ اس نے بغیر ثبوت پاکستان پر الزامات کیوں عائد کیے اور یکطرفہ حملے کیوں کیے جبکہ بھارت نے شہری آبادیوں کو نشانہ بھی بنایا اور دونوں ممالک کے مابین سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی۔

‘‘

بھارت کے ساتھ تمام مسائل پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، شہباز شریف

پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت نے پہلگام میں خونریز حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر لگا دیا۔ پھر بھارت نے فوجی کارروائی کے طور پر 'آپریشن سندور‘ شروع کیا، جب کہ پاکستان کی جوابی کارروائی، جسے 'آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا، دفاعی نوعیت کی تھی۔

پاکستان کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت: پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں پیرا ملٹری پولیس افسر گرفتار

بھارتی وفود کی جانب سے پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی پالیسی اور بھارت کے اپنے دفاع کے حق کے حوالے سے گفتگو کی جا رہی ہے۔

بھارتی وفد کے ایک رکن نے تو پاکستان میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار اور جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بنائے جانے پر بھی تنقید کی ہے۔ ’امن کی امید قائم رکھنا چاہیے‘

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ فاروق حمید خان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک عملی طور پر بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں، اور چین کے مخالف بلاک کو قائل کرنا بھی آسان نہیں ہے۔

تاہم ان کے مطابق پاکستان کو اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہییں۔

پاکستان کی ’دو ٹوک حمایت‘ پر شہباز شریف کی طرف سے ترکی کا شکریہ

ان کے خیال میں بلاول بھٹو زرداری جیسے نوجوان سیاستدان کی قیادت میں کسی سفارتی وفد کو بیرون ملک بھیجنا بہتر انتخاب نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنانے کے خواہش مند حلقوں کی طرف سے انہیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

بھارتی دستوں نے سرحد پار کرنے والے پاکستانی کو گولی مار دی

پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن اپنے سیاسی موقف میں لچک پیدا کر کے قومی مفاد میں کوئی بڑا فیصلہ کر لیتے، اور حزب اختلاف کو بھی ان کوششوں کا حصہ بنا لیتے، مثلاً ان کے الفاظ میں اگر عمران خان کو اس وفد کا سربراہ بنا کر بیرون ملک بھیجا جاتا، تو اس کا عالمی سطح پر غیر معمولی اثر پڑتا۔

''اس سے حکومت کا امیج بھی بہتر ہوتا اور اندرون ملک اتحاد بھی فروغ پاتا۔‘‘

پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جس پر بھارت کا حق ہے، بھارتی وزیراعظم مودی

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہ چکنے والے عبدالباسط کا کہنا تھا کہ تمام تر مسائل اور پیچیدگیوں کے باوجود امن کی امید قائم رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اب تک بہت نقصان ہو چکا ہے، اور چونکہ بھارت ایک بڑا ملک ہے، اس لیے اسے پہل کرنا چاہیے۔

عبدالباسط کے بقول اگر بھارت جموں کشمیر کے متنازعہ خطے کو اپنا 'اٹوٹ انگ‘ کہنے کے موقف سے پیچھے ہٹے، تو امن کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلاول بھٹو زرداری ان کے مطابق شہباز شریف پاکستان کی پاکستان کے کر رہے ہیں ممالک کے بھارت نے بھارت کے کا کہنا کے دورے کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار