پاک بھارت کشیدگی عسکری کے بعد اب سفارتی میدان میں
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 مئی 2025ء) پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بھی آج کل ملکی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے ہمراہ ان ممالک کے دورے کر رہے ہیں جنہوں نے حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کی۔ یہ پاکستانی وفد ترکی، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان جیسے دوست ممالک کے دورے پر ہے۔ اس دورے میں وزیر اعظم شہباز شریف کا مقصد یہ ہے کہ ان دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جائے اور پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دی جائے۔
پاکستانی وفود کے یورپ اور امریکا کے دورےاس کے علاوہ پاکستان کے دو اور اعلیٰ سطحی وفود امریکہ اور یورپ بھی روانہ ہو رہے ہیں۔ ان وفود میں حکومتی وزراء، اراکین پارلیمان، سینئر سیاستدان اور سابق سفارتکار بھی شامل ہیں۔
(جاری ہے)
بلاول بھٹو زرداری، جو مختصر مدت کے لیے پاکستان کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں، امریکہ جانے والے پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
بھارت کا پانی کو ہتھیار بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی، پاکستان
یہ وفد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، امریکی قانون سازوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا اداروں کے سرکردہ نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ ان کے سامنے بھارت کے ساتھ تصادم سے متعلق پاکستانی موقف کی وضاحت کی جا سکے۔
اس وفد میں مصدق ملک، حنا ربانی کھر، شیری رحمان، خرم دستگیر اور سابق سفیر جلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں۔
یہ پاکستانی وفد یکم جون کو نیو یارک پہنچے گا اور تین جون کو واشنگٹن میں اس وفد کے ارکان کی امریکی کے قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات چیت متوقع ہے۔ بھارت کے بھی آٹھ وفود 33 ممالک کے دوروں پردوسری طرف بھارت نے بھی اپنی سفارتی مہم تیز کر دی ہے۔ بھارتی رکن پارلیمان اور اقوام متحدہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار ششی تھرور امریکہ کے دورے گئے ہوئے بھارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
ان کے اس دورے میں گیانا، پاناما، کولمبیا اور برازیل کے سفر بھی شامل ہیں۔ بھارت نے دنیا کے 33 دارالحکومتوں میں اپنے آٹھ وفود بھیجے ہیں، جو وہاں پاک بھارت کشیدگی سے متعلق نئی دہلی کا بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ششی تھرور ایک تجربہ کار سفارتکار اور کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمان ہیں۔ وہ بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے سربراہ بھی ہیں اور 27 کتابوں کے مصنف بھی۔
وہ اقوام متحدہ میں اپنی خدمات اور بھارتی وزارت خارجہ میں دو مرتبہ بطور وزیر اپنے کردار کے باعث عالمی سطح پر ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔بھارتی وزیر اعظم کا مبینہ ’اشتعال انگیز‘ بیان اور پاکستان کا ردعمل
اسی طرح پاکستان کے بلاول بھٹو زرداری بھی ایک نمایاں سیاسی شخصیت ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے بیٹے اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور 2022 سے 2023 تک پاکستانی وزیر خارجہ کے طور پر خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کشیدگی برقراریہ جملہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہیں، جب جنوبی ایشیا میں کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے اور چند حکومتی شخصیات کے ساتھ ساتھ میڈیا کا کچھ حصہ بھی جنگی بیانیے کو تقویت دے رہا ہے۔
اس موضوع پر ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس وقت مؤثر دلائل موجود ہیں اور بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی حاصل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کے علاوہ کسی ملک نے پاکستان کی پوزیشن پر اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ''بھارت کو یہ جواب دینا ہو گا کہ اس نے بغیر ثبوت پاکستان پر الزامات کیوں عائد کیے اور یکطرفہ حملے کیوں کیے جبکہ بھارت نے شہری آبادیوں کو نشانہ بھی بنایا اور دونوں ممالک کے مابین سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی۔
‘‘بھارت کے ساتھ تمام مسائل پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، شہباز شریف
پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت نے پہلگام میں خونریز حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر پاکستان پر لگا دیا۔ پھر بھارت نے فوجی کارروائی کے طور پر 'آپریشن سندور‘ شروع کیا، جب کہ پاکستان کی جوابی کارروائی، جسے 'آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا، دفاعی نوعیت کی تھی۔
پاکستان کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔بھارت: پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں پیرا ملٹری پولیس افسر گرفتار
بھارتی وفود کی جانب سے پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی پالیسی اور بھارت کے اپنے دفاع کے حق کے حوالے سے گفتگو کی جا رہی ہے۔
بھارتی وفد کے ایک رکن نے تو پاکستان میں فوج کے بڑھتے ہوئے کردار اور جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بنائے جانے پر بھی تنقید کی ہے۔ ’امن کی امید قائم رکھنا چاہیے‘دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ فاروق حمید خان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک عملی طور پر بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں، اور چین کے مخالف بلاک کو قائل کرنا بھی آسان نہیں ہے۔
تاہم ان کے مطابق پاکستان کو اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہییں۔پاکستان کی ’دو ٹوک حمایت‘ پر شہباز شریف کی طرف سے ترکی کا شکریہ
ان کے خیال میں بلاول بھٹو زرداری جیسے نوجوان سیاستدان کی قیادت میں کسی سفارتی وفد کو بیرون ملک بھیجنا بہتر انتخاب نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیر اعظم بنانے کے خواہش مند حلقوں کی طرف سے انہیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بھارتی دستوں نے سرحد پار کرنے والے پاکستانی کو گولی مار دی
پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور اپوزیشن اپنے سیاسی موقف میں لچک پیدا کر کے قومی مفاد میں کوئی بڑا فیصلہ کر لیتے، اور حزب اختلاف کو بھی ان کوششوں کا حصہ بنا لیتے، مثلاً ان کے الفاظ میں اگر عمران خان کو اس وفد کا سربراہ بنا کر بیرون ملک بھیجا جاتا، تو اس کا عالمی سطح پر غیر معمولی اثر پڑتا۔
''اس سے حکومت کا امیج بھی بہتر ہوتا اور اندرون ملک اتحاد بھی فروغ پاتا۔‘‘پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جس پر بھارت کا حق ہے، بھارتی وزیراعظم مودی
بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہ چکنے والے عبدالباسط کا کہنا تھا کہ تمام تر مسائل اور پیچیدگیوں کے باوجود امن کی امید قائم رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اب تک بہت نقصان ہو چکا ہے، اور چونکہ بھارت ایک بڑا ملک ہے، اس لیے اسے پہل کرنا چاہیے۔
عبدالباسط کے بقول اگر بھارت جموں کشمیر کے متنازعہ خطے کو اپنا 'اٹوٹ انگ‘ کہنے کے موقف سے پیچھے ہٹے، تو امن کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلاول بھٹو زرداری ان کے مطابق شہباز شریف پاکستان کی پاکستان کے کر رہے ہیں ممالک کے بھارت نے بھارت کے کا کہنا کے دورے کے ساتھ
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین