پاکستان کے پہلے سرکاری حمایت یافتہ بٹ کوائن ریزرو، والٹ کے قیام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
لاس ویگاس: پاکستان نے پہلے سرکاری حمایت یافتہ بٹ کوائن ریزرو اور قومی بٹ کوائن والٹ کے قیام کا بھی اعلان کر دیا۔
اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا اعلان وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین، کرپٹو اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کیا، اعلان بٹ کوائن ویگاس 2025 کے دوران کیا گیا۔
بلال بن ثاقب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں امن قائم کرنے اور کرپٹو اپنانے کے لیے امریکی صدر کی خدمات کو سراہا، تقریب کے دوران امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس، ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹو بلال بن ثاقب نے امریکا میں پاکستان کی کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی اپیل کی اور انہوں نے ایک قومی بٹ کوائن والٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
لاس ویگاس میں بٹ کوائن ویگاس 2025 کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ یہ والٹ ریاستی تحویل میں موجود ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، حکومت نے بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2000 میگاواٹ اضافی بجلی مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان میں 40 ملین سے زائد کرپٹو والٹس موجود ہیں اور پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسنگ معیشتوں میں سے ایک ہے۔
بلال بن ثاقب نے عالمی کرپٹو کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کرنا چاہتا ہے، عالمی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔
علاوہ ازیں حکومت نے پہلے مرحلے میں بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2000 میگاواٹ زائد بجلی مختص کی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز خود مختار مائنرز، ٹیک کمپنیوں اور بین الاقوامی بلاک چین فرمز کے لیے دروازے کھول رہا ہے، پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا تاکہ بلاک چین پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلال بن ثاقب نے بلاک چین کے لیے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔