اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت کا نیا سالانہ ترقیاتی پروگرام ایک وژنری پروگرام ہوگا جو اگلے چار برسوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے ٹھوس بنیاد اور روڈ میپ بنیاد فراہم کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پورے صوبے میں یکساں ترقی ہماری ذمہ داری ہے اور نئے مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کا بیشتر حصہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیا جائے گا۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری سے متعلق مشاورت کے سلسلے میں آخری اجلاس میں نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لیے مردان ڈویژن کے مجوزہ منصوبوں پر طویل مشاورت کی گئی۔ مردان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی اور اپنے اپنے حلقوں میں نئے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تجاویز پیش کیں، اجلاس میں مردان ڈویژن کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر بھی پیش رفت کا محکمانہ وار جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت کا نیا سالانہ ترقیاتی پروگرام ایک وژنری پروگرام ہوگا جو اگلے چار برسوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے ٹھوس بنیاد اور روڈ میپ بنیاد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام کو منتخب عوامی نمائندوں کی تجاویز کی روشنی میں ترتیب دیا جائے گا، حلقوں کی عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں نئے منصوبے شامل کیے جائیں گے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں وسیع عوامی مفاد کے ٹھوس اور قابل عمل منصوبے شامل کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال کے ترقیاتی فنڈز کا بیشتر حصہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مختص کیا جائے گا جبکہ 80 فیصد یا اسے زیادہ پراگریس والے جاری منصوبوں کو اگلے سال مکمل کیا جائے گا، جسے کم و بیش 50 فیصد جاری ترقیاتی منصوبے مکمل ہوکر اے ڈی پی سے نکل جائیں گے۔ صوبے کے تمام علاقوں کی یکساں ترقی کو اپنی ترجیح اور ذمہ داری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ صوبے کا ہر حلقہ ان کا حلقہ ہے اور تمام حلقوں کو آبادی، علاقے کی  پسماندگی اور عوامی ضروریات کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبوں میں حصہ دیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی علاقے کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سالانہ ترقیاتی پروگرام علی امین گنڈاپور ترقیاتی منصوبوں وزیر اعلی نے کہا کہ جائے گا کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی